உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جے این یو تنازع : کشمیر سے لے کر بہار تک دہلی پولیس کے چھاپے

    نئي دہلی : جواہر لال نہرو یونیورسٹی ( جے این یو ) میں 9 فروری کے متنازع پروگرام میں مبینہ طورپر ملک مخالف نعرے بازی کے معاملے میں ملوث افراد کی تلاش اور گرفتاری کے لئے دہلی پولیس نے آج پانچ ریاستوں میں چھاپے ماری کی۔ جن ریاستوں میں پولس نے چھان بین کی ان میں دہلی، اترپردیش ، بہار، مہاراشٹر اور جموں و کشمیر شامل ہیں۔

    نئي دہلی : جواہر لال نہرو یونیورسٹی ( جے این یو ) میں 9 فروری کے متنازع پروگرام میں مبینہ طورپر ملک مخالف نعرے بازی کے معاملے میں ملوث افراد کی تلاش اور گرفتاری کے لئے دہلی پولیس نے آج پانچ ریاستوں میں چھاپے ماری کی۔ جن ریاستوں میں پولس نے چھان بین کی ان میں دہلی، اترپردیش ، بہار، مہاراشٹر اور جموں و کشمیر شامل ہیں۔

    نئي دہلی : جواہر لال نہرو یونیورسٹی ( جے این یو ) میں 9 فروری کے متنازع پروگرام میں مبینہ طورپر ملک مخالف نعرے بازی کے معاملے میں ملوث افراد کی تلاش اور گرفتاری کے لئے دہلی پولیس نے آج پانچ ریاستوں میں چھاپے ماری کی۔ جن ریاستوں میں پولس نے چھان بین کی ان میں دہلی، اترپردیش ، بہار، مہاراشٹر اور جموں و کشمیر شامل ہیں۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئي دہلی : جواہر لال نہرو یونیورسٹی ( جے این یو ) میں 9 فروری کے متنازع پروگرام میں مبینہ طورپر ملک مخالف نعرے بازی کے معاملے میں ملوث افراد کی تلاش اور گرفتاری کے لئے دہلی پولیس نے آج پانچ ریاستوں میں چھاپے ماری کی۔ جن ریاستوں میں پولس نے چھان بین کی ان میں دہلی، اترپردیش ، بہار، مہاراشٹر اور جموں و کشمیر شامل ہیں۔


      پولس نے مبینہ نعرے بازی کے لئے جن طلبہ کی نشاندہی کی ہے ، ان کا تعلق مذکورہ ریاستوں سے ہے۔ دہلی پولیس کمشنر بی ایس بسّی نے چھاپے ماری کے بارے میں دریافت کئے جانے پر صحافیوں کو بتایا کہ ہمیں جے این یو میں ملک مخالف پروگرام منعقد کرنے میں جے این یو طلبہ یونین کے صدر کنہیا کمار کے ملوث ہونے کے ٹھوس ثبو ت ملے ہيں اور اسی وجہ سے ہم نے اس کوبغاوت کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔


      پروگرام میں جے این یو کے علاوہ دوسرے طلبہ بھی موجود تھے، جنہیں گرفتار کرنے کے لئے پانچ ریاستوں میں چھاپہ ما ری کی جارہی ہے ۔ گزشتہ روز دہلی پولیس نے جے این یو کے طلبہ کے خلاف اپنی کارروائی کی رپورٹ وزارت داخلہ کو سونپ دی ہے۔ پولیس نے اپنی رپورٹ میں مبینہ ملک مخالف نعرے بازی اور پرتشدد واقعہ کے لئے طلبہ یونین کے صدر کنہیا کمار اور عمر خالد کو مورد الزام ٹھہرایا ہے۔

      First published: