ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

روہت ویمولا کی خودکشی اور جے این یو معاملوں کی جانچ کرے راجیہ سبھا کمیٹی

نئی دہلی : جواہر لال نہرو یونیورسٹی معاملہ اور حیدر آباد یونیورسٹی میں دلت اسکالر روہت ویمولا کی خود کشی کے معاملے میں گزشتہ کچھ عرصہ سے حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرنے والے اپوزیشن کی جانب سے آج راجیہ سبھا میں ان معاملوں کی تحقیقات کے لئے ایوان بالا کی کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا گیا۔

  • UNI
  • Last Updated: Feb 25, 2016 01:39 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
روہت ویمولا کی خودکشی اور جے این یو معاملوں کی جانچ کرے راجیہ سبھا کمیٹی
نئی دہلی : جواہر لال نہرو یونیورسٹی معاملہ اور حیدر آباد یونیورسٹی میں دلت اسکالر روہت ویمولا کی خود کشی کے معاملے میں گزشتہ کچھ عرصہ سے حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرنے والے اپوزیشن کی جانب سے آج راجیہ سبھا میں ان معاملوں کی تحقیقات کے لئے ایوان بالا کی کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا گیا۔

نئی دہلی : جواہر لال نہرو یونیورسٹی معاملہ اور حیدر آباد یونیورسٹی میں دلت اسکالر روہت ویمولا کی خود کشی کے معاملے میں گزشتہ کچھ عرصہ سے حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرنے والے اپوزیشن کی جانب سے آج راجیہ سبھا میں ان معاملوں کی تحقیقات کے لئے ایوان بالا کی کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا گیا۔


مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سکریٹری سیتارام یچوری نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی اور حیدرآباد یونیورسٹی کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے اعلی تعلیم کے مرکزی اداروں کی موجودہ صورتحال پر مختصر مدتی بحث میں اپوزیشن کی جانب سے سب سے پہلے مورچہ سنبھالتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ان دو یونیورسٹیوں کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ زیادہ تر مرکزی اداروں میں آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خصوصی مہم چلائی جا رہی ہے۔


انہوں نے الزام لگایا کہ یونیورسٹیوں میں ہندو ؤں کی قدیم حکایات سے ملک کی تاریخ کو تبدیل کرنے کا کام چل رہا ہے اور موجودہ حکومت ملک کو سیکولر جمہوریت سے ہندو راشٹر میں تبدیل کرنے کی مہم کو شہہ دے رہی ہے۔ جے این یو کیمپس میں طلبہ کے ایک پروگرام کے دوران لگائے گئے نعروں کا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت اظہار رائے کی آزادی کو دبا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہاں بھوک اور غربت سے آزادی کے نعرے لگائے گئے تھے۔


مسٹر یچوری نے کہاکہ وہ بھی آزادی چاہتے ہیں بھوک سے، غربت سے اور سنگھواد سے ۔ اس لئے انہیں بھی گرفتار کر لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تمام مرکزی یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کا قیام پارلیمنٹ نے کیا ہے اس لیے وہاں ہونے والی غلط اور درست سرگرمیوں کی جانچ پڑتال کرنے کی ذمہ داری ایوان پارلیمان کی ہے۔ وہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ان دونوں یونیورسٹیوں کے واقعہ کی تحقیقات کے لئے ایوان کی کمیٹی بنائی جانی چاہئے۔


بھارتیہ جنتا پارٹی کے بھوپندر یادو نے حزب اقتدار کی طرف سے اپوزیشن کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان یونیورسٹیوں کا قیام ملک میں تعلیم، تحقیق اور سائنسی نظریہ تعلیم کو فروغ دینے کے ساتھ ملک میں اتحاد اور سیکولرزم کا ماحول مضبوط بنانے کے مقصد سے کیا گیا تھا۔ ان میں ملک کو توڑنے کا بیج بونے والی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ اظہار رائے کی آزادی اور ملک سے آزادی میں فرق کرنا ضروری ہے۔

First published: Feb 25, 2016 01:38 PM IST