உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جے این تنازع : عمر خالد کو نہیں ملی راحت ، ہائی کورٹ نے پولیس کے سامنے خود سپردگی کرنے کو کہا

    نئی دہلی : جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں مبینہ طور پر ملک مخالف نعرے بازی کے معاملے میں ملزم عمر خالد اور دیگر طلبہ کو دہلی ہائی کورٹ سے راحت نہیں ملی ہے۔ ہائی کورٹ نے خالد کی گرفتاری پر روک سے انکار کردیا ۔ خالد کو گرفتار کرنے کے بعد پولیس کو 24 گھنٹوں میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔

    نئی دہلی : جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں مبینہ طور پر ملک مخالف نعرے بازی کے معاملے میں ملزم عمر خالد اور دیگر طلبہ کو دہلی ہائی کورٹ سے راحت نہیں ملی ہے۔ ہائی کورٹ نے خالد کی گرفتاری پر روک سے انکار کردیا ۔ خالد کو گرفتار کرنے کے بعد پولیس کو 24 گھنٹوں میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔

    • Pradesh18
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی : جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں مبینہ طور پر ملک مخالف نعرے بازی کے معاملے میں ملزم عمر خالد اور دیگر طلبہ کو دہلی ہائی کورٹ سے راحت نہیں ملی ہے۔ ہائی کورٹ نے خالد کی گرفتاری پر روک سے انکار کردیا ۔ خالد کو گرفتار کرنے کے بعد پولیس کو 24 گھنٹوں میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔


      ہائی کورٹ نے خالد کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو قانونی طریقہ کار پر عمل کرنا ہوگا۔ آپ اپنی مرضی سے تمام فیصلہ نہیں کر سکتے ہیں۔ قانونی طور پر گرفتاری کے بعد پولیس کو 24 گھنٹوں میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ یہ مجسٹریٹ طے کریں گے کہ وہ پولیس حراست میں جائے یا عدالتی حراست میں۔ آپ ایسا مطالبہ کیجئے ، جو قانونی طور پر درست ہو۔


      خالد کی سیکورٹی پر ہائی کورٹ نے کہا کہ عمر خالد کی سیکورٹی پولیس کی ذمہ داری ہے۔ قابل ذکر ہے کہ عمر نے مطالبہ کیا تھا کہ ہائی کورٹ میں خودسپرگی کی اجازت دی جائے اور اسے عدالتی حراست میں بھیجا جائے۔ ساتھ ہی ساتھ جے این یو سے ہائی کورٹ تک اس کو سیکورٹی فراہم کی جائے ۔

      First published: