உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جے این یو تنازع : عمر خالد اور انربان بھٹا چاریہ نے پولیس کے سامنے کی خودسپردگی

    نئی دہلی : جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں مبینہ طور پر ملک مخالف نعرے بازی کے معاملے میں ملزم عمر خالد اور ان کے ساتھی انربان بھٹاچاریہ نے دہلی ہائی کورٹ کے ذریعہ راحت نہیں ملنے کے بعد منگل کو دیر رات یونیورسٹی کے کیمپس سے باہر نکل کر دہلی پولیس کے سامنے خود سپردگی کردی ۔ دونوں کو انتہائی سخت سیکورٹی کے دوران انہیں بسنت کنج تھانے لے جایا گیا ۔

    نئی دہلی : جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں مبینہ طور پر ملک مخالف نعرے بازی کے معاملے میں ملزم عمر خالد اور ان کے ساتھی انربان بھٹاچاریہ نے دہلی ہائی کورٹ کے ذریعہ راحت نہیں ملنے کے بعد منگل کو دیر رات یونیورسٹی کے کیمپس سے باہر نکل کر دہلی پولیس کے سامنے خود سپردگی کردی ۔ دونوں کو انتہائی سخت سیکورٹی کے دوران انہیں بسنت کنج تھانے لے جایا گیا ۔

    • Pradesh18
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی : جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں مبینہ طور پر ملک مخالف نعرے بازی کے معاملے میں ملزم عمر خالد اور ان کے ساتھی انربان بھٹاچاریہ نے دہلی ہائی کورٹ کے ذریعہ راحت نہیں ملنے کے بعد منگل کو دیر رات یونیورسٹی کے کیمپس سے باہر نکل کر دہلی پولیس کے سامنے خود سپردگی کردی ۔ دونوں کو انتہائی سخت سیکورٹی کے دوران انہیں بسنت کنج تھانے لے جایا گیا ۔ کل انہیں پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں عدالت میں پیش کیا جائے گا۔


      خیال رہے کہ ہائی کورٹ نے خالد کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپ کو قانونی طریقہ کار پر عمل کرنا ہوگا۔ آپ اپنی مرضی سے تمام فیصلہ نہیں کر سکتے ہیں۔ قانونی طور پر گرفتاری کے بعد پولیس کو 24 گھنٹوں میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔ ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ یہ مجسٹریٹ طے کریں گے کہ وہ پولیس حراست میں جائے یا عدالتی حراست میں۔ آپ ایسا مطالبہ کیجئے ، جو قانونی طور پر درست ہو۔


      خالد کی سیکورٹی پر ہائی کورٹ نے کہا کہ عمر خالد کی سیکورٹی پولیس کی ذمہ داری ہے۔ قابل ذکر ہے کہ عمر نے مطالبہ کیا تھا کہ ہائی کورٹ میں خودسپرگی کی اجازت دی جائے اور اسے عدالتی حراست میں بھیجا جائے۔ ساتھ ہی ساتھ جے این یو سے ہائی کورٹ تک اس کو سیکورٹی فراہم کی جائے ۔

      First published: