உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جے این یو طالبہ نے شیئر کی پولیس مار پیٹ اور چھیڑ چھاڑ کی تصویریں ، خود پر ہی لٹکی گرفتاری کی تلوار

    جے این یو سوشیولاجی کی طالبہ شینا ٹھاکر نے طلبہ ، اساتذہ اور پولیس کے درمیان جھڑپ کی کئی تصویریں اور ویڈیو شیئر کی ہیں۔

    جے این یو سوشیولاجی کی طالبہ شینا ٹھاکر نے طلبہ ، اساتذہ اور پولیس کے درمیان جھڑپ کی کئی تصویریں اور ویڈیو شیئر کی ہیں۔

    جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں جنسی استحصال کے خلاف مظاہرہ کے دوران دہلی پولیس کے افسران پر چھیڑ چھاڑ اور مار پیٹ کا الزام لگانے والی ایک طالبہ پر اب گرفتاری کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی : جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں جنسی استحصال کے خلاف مظاہرہ کے دوران دہلی پولیس کے افسران پر چھیڑ چھاڑ اور مار پیٹ کا الزام لگانے والی ایک طالبہ پر اب گرفتاری کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ پولیس نے اس طالبہ کے خلاف معاملہ درج کیا ہے ۔ جے این یو سوشیولاجی کی طالبہ شینا ٹھاکر نے طلبہ ، اساتذہ اور پولیس کے درمیان جھڑپ کی کئی تصویریں اور ویڈیو شیئر کی ہیں۔ یہ تصاویر سوشل میڈیا پر وائر ہے۔ 24 مارچ کو فیس بک پر ڈالے جانے کے بعد سے اب تک یہ تصویریں 28 ہزار مرتبہ شیئر کی جاچکی ہیں۔
      بجفیڈ کی رپورٹ کے مطابق دہلی پولیس نے شینا سمیت اس کے کئی دوستوں کے خلاف مارپیٹ ، خاتون کے وقار کو نقصان پہنچانے اور خطرناک ہتھیار کے ساتھ دنگا کرنے کا معاملہ درج کیا ہے۔ اس کے بعد اب ان پر گرفتاری کا خطرہ منڈلانے لگا ہے۔ شینا اور اس کے دوستوں کو یہ فکر لاحق ہوگئی ہے کہ انہیں کسی بھی وقت گرفتار کیا جاسکتا ہے۔
      وہیں شینا نے 23 مارچ کو پیش آئے واقعہ کی بابت بتایا کہ جب جے این یو کی احتجاجی ریلی پارلیمنٹ کی جانب جارہی تھی ، تو انہوں نے سنا کہ پولیس اہلکار کہہ رہے تھے کہ ان کے کپڑے پھاڑو اور اس کے کچھ دیر بعد کوئی اس کی برا کھینچ رہا تھا۔ اس کو پکڑا گیا ، مارا گیا ، چھیڑا گیا اور پانی کی بوچھاروں سے دھکیلا گیا۔
      خیال رہے کہ جے این یو کے طلبہ پروفیسر اتل جوہری کو ضمانت دئے جانے کی مخالفت کررہے تھے۔ جوہری پر آٹھ لڑکیوں کے جنسی استحصال کا الزام ہے۔ انہیں کچھ گھنٹوں کے اندر ہی گرفتار کرکے ضمانت دیدی گئی ، جس کے بعد طلبہ اور اساتذہ نے اس کی مخالفت کی۔ اسی کے پیش نظر 23 مارچ کو مظاہرہ کیا گیا ، لیکن پولیس نے راستے میں ہی روک دیا ، جس کے بعد جھڑپ ہوگئی۔
      First published: