اپنا ضلع منتخب کریں۔

    عمر خالد پھر تنازع میں ، برہان وانی کا موازنہ چے گویرا سے کیا

    نئی دہلی : مبینہ طور پر غداری کے الزام میں جیل جاچکا جے این یو کا طالب علم عمر خالد نے کشمیر میں مارا گیا برہان وانی پر بیان دے کر ایک مرتبہ پھر تنازع میں گھر گیا ہے

    نئی دہلی : مبینہ طور پر غداری کے الزام میں جیل جاچکا جے این یو کا طالب علم عمر خالد نے کشمیر میں مارا گیا برہان وانی پر بیان دے کر ایک مرتبہ پھر تنازع میں گھر گیا ہے

    نئی دہلی : مبینہ طور پر غداری کے الزام میں جیل جاچکا جے این یو کا طالب علم عمر خالد نے کشمیر میں مارا گیا برہان وانی پر بیان دے کر ایک مرتبہ پھر تنازع میں گھر گیا ہے

    • Pradesh18
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی : مبینہ طور پر غداری کے الزام میں جیل جاچکا جے این یو کا طالب علم عمر خالد نے کشمیر میں مارا گیا برہان وانی پر بیان دے کر ایک مرتبہ پھر تنازع میں گھر گیا ہے ۔ عمر خالد نے وانی کا موازنہ مارکسی انقلابی چے گویرا سے کیا ہے ۔ خالد نے فیس بک پیج پر لکھا کہ چے گویرا نے کہا تھا اگر میں مر جاؤں اور کوئی دوسرا میری بندوق اٹھاکر گولیاں چلاتا رہے ، تو مجھے پرواہ نہیں ، لیکن ایسے ہی لفظ برہان وانی کے بھی رہے ہوں گے ۔

      خالد نے مزید لکھا کہ برہان کو موت سے ڈر نہیں تھا ۔ وہ بندشوں میں رہنے والی زندگی سے ڈرتا تھا ۔ اس نے اس کی مخالفت کی ۔ اس نے ایک آزاد شخص کے طور پر زندگی گزاری اور آزاد ہو کر ہی مر گیا ۔  ہندوستان ! آپ ان لوگوں کو کس طرح مات دو گے ، جنہوں نے اپنے خوف کو شکست دی ہے؟  عمر نے کہا کہ ریسٹ ان پاور برہان ! کشمیر کے لوگوں کے ساتھ مکمل ہمدردی ۔

      ایک دوسری پوسٹ میں عمر خالد نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ صرف برہان وانی کا ہی کیوں ، میں اموات کا، عصمت دری کا ، ٹارچر کا ، لاپتہ ہونے کا اور افسپا کا ، ہر بات کا جشن مناوں گا ۔ میں سمیر راہ کی موت پر بھی صفائی دوں گا ۔ وہ 12 سال کا لڑکا جسے 2010 میں پیٹ پیٹ کر مار دیا گیا ۔ عائشہ اور نیلوفر کو شوپیاں میں کبھی ریپ کر کے مارا ہی نہیں کیا ۔  وہ حقیقت میں نہر میں ڈوب گئی تھیں ۔

      خالد نے لكھا کہ  آج سے میں شترمرغ بن جاؤں گا ، میں ایک بزدل بن جاؤں گا ، جسے اقتدار پر قابض لوگوں سے بزدلوں کو دبانے کے لئے خوب تعریفیں ملتی ہیں ، لیکن قوم پرستوں سے میرا ایک چھوٹا سوال بھی ہے، کیا ایسا کرنے سے کشمیر کی زمینی حقیقت بدل جائے گی؟ ۔
      First published: