ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جے این یو طلبہ یونین کے انتخاب میں بایاں محاذ کا جلوہ ، چاروں سیٹوں کے علاوہ کونسلروں کی 15میں سے 14سیٹ پر قبضہ

جواہر لال نہرو طلبہ یونین کے انتخاب میں بایاں محاذ نے بازی ماری ہے اور اس کو چاروں اہم عہدوں پر کامیابی کے علاوہ کونسلروں کی 15سیٹوں میں سے 14 پر کامیابی ملی ہے

  • UNI
  • Last Updated: Sep 10, 2016 10:54 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
جے این یو طلبہ یونین کے انتخاب میں بایاں محاذ کا جلوہ ، چاروں سیٹوں کے علاوہ کونسلروں کی 15میں سے 14سیٹ پر قبضہ
جواہر لال نہرو طلبہ یونین کے انتخاب میں بایاں محاذ نے بازی ماری ہے اور اس کو چاروں اہم عہدوں پر کامیابی کے علاوہ کونسلروں کی 15سیٹوں میں سے 14 پر کامیابی ملی ہے

نئی دہلی : جواہر لال نہرو طلبہ یونین کے انتخاب میں بایاں محاذ نے بازی ماری ہے اور اس کو چاروں اہم عہدوں پر کامیابی کے علاوہ کونسلروں کی 15سیٹوں میں سے 14 پر کامیابی ملی ہے۔


جے این یو طلبہ یونین انتخاب میں اے آئی ایس اے اور ایس ایف آئی اتحاد نے بڑے اسکولوں میں کونسلروں کی 15میں سے 14 سیٹیں جیت لی ہیں۔ ایک سیٹ ڈیموکریٹک اسٹوڈینٹ فرنٹ کے حصے میں آئی ہے۔اس میں اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کا کھاتہ نہیں کھلا۔


خیال رہے کہ  دہلی یونیورسٹی طلبا یونین (ڈوسو) کے 2016 کے انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)کی حمایت یافتہ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) نے پھر سے بازی مار ی تھی ۔  اے بی وی پی نے صدر، نائب صدر اور سیکرٹری کے عہدے پر فتح حاصل کی جبکہ کانگریس کی حمایت یافتہ نیشنل اسٹوڈنٹ یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) کو صرف جوائنٹ سکریٹری کے عہدے پر فتح حاصل ہوئی۔


اے بی وی پی کے امت تور نے صدر کے عہدے کے انتخابات میں این ایس یو آئی کے نکھل یادو، نائب صدر کے عہدے پر پرینکانے ارجن چاپ رانا اور سیکرٹری عہدے پرانکت سنگھ نے ونیتا ڈھاکہ کو شکست دی۔ این ایس یو آئی کے موہت نے جوائنٹ سکریٹری کے عہدے پر اے بی وی پی کے وشال یادو کو شکست دی۔

 

گزشتہ انتخابات میں بھی اے بی وی پی نے یہ تینوں عہدے جیتے تھے اور این ایس یو آئی کی جھولی میں جوائنٹ سکریٹری کا عہدہ ہی آ پایا تھا۔ دہلی بی جے پی کے صدر ستیش اپادھیائے نے دہلی یونیورسٹی طلبا یونین انتخابات مییں اے بی وی پی کی کارکردگی کی ستائش کی ہے اور کہا ہے یہ جیت قوم پرستی پر طالب علموں کے یقین کے ساتھ ساتھ مودی حکومت کی تعلیم اور روزگار کی پالیسی پر اعتماد کا مظہر ہے۔

 
First published: Sep 10, 2016 10:49 PM IST