உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Caste of gods: جے این یو کے وائس چانسلر کا دیوتاؤں کی ذات پات پر ریمارک، VC نے کی وضاحت

    جے این یو کے وائس چانسلر سنت شری دھولیپوڈی پنڈت

    جے این یو کے وائس چانسلر سنت شری دھولیپوڈی پنڈت

    ایک نو سالہ دلت لڑکے کے حالیہ ذات پات کے تشدد کے بارے میں لے کر انہوں نے کہا کہ کوئی بھی خدا اعلیٰ ذات سے تعلق نہیں رکھتا۔ آپ میں سے زیادہ تر کو ہمارے دیوتاؤں کی ماخذ بشریاتی طور پر معلوم ہونا چاہیے۔ Caste of gods

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi | Mumbai | Hyderabad | Lucknow | Karnataka
    • Share this:
      نئی دہلی: ان دنوں دہلی میں دیوتاؤں کی کوئی ذات نہیں ہوتی والے تبصرے پر تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ جے این یو کے وائس چانسلر سنت شری دھولیپوڈی پنڈت (Santishree Dhulipudi Pandit) نے بدھ کے روز اپنے تبصروں کا دفاع ایک تعلیمی مشق کے طور پر کیا اور کہا کہ ان کے تبصروں کا غلط حوالہ دیا جارہا ہے۔ سنت شری دھولیپوڈی پنڈت نے یہ بھی کہا کہ وہ اکیڈمک ہیں اور لوگوں کو بی آر امبیڈکر (BR Ambedkar) پر غصہ آنا چاہیے کیونکہ ان کے ذکر کے دوران ہی وہ اس بات کی تشریح کر رہی تھیں۔

      جے این یو میں ڈاکٹر بی آر امبیڈکر لیکچر سیریز کا عنوان ’’صنفی انصاف پر ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے خیالات: یکساں سول کوڈ کو جدید تسریح‘‘ تھا۔ اس سیریز کے دوران پنڈت نے کہا کہ جس طرح انسان ذات پات سے تعلق رکھتے ہیں، اس طرح دیوتا اعلیٰ ذات سے تعلق نہیں رکھتے یا یہ کہ بھگوان شیو بھی درج فہرست ذات یا قبیلہ سے نہیں ہوسکتے۔

      سنت شری دھولیپوڈی پنڈت نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ مجھ سے صنفی انصاف کے بارے میں بی آر امبیڈکر کے خیالات پر بات کرنے کو کہا گیا تھا۔ میں بی آر امبیڈکر کی تشریح کر رہی تھی۔ آپ ان کی تحریریں دیکھ سکتے ہیں۔ لوگوں کو مجھ سے ناراض کیوں ہونا چاہئے؟ انہیں بی آر امبیڈکر سے ناراض ہونا چاہئے۔ مجھے اس میں کیوں گھسیٹا جا رہا ہے؟

      انھوں نے کہا کہ میں پہلے ایک اکیڈمک ہوں، ایک پروفیسر ہوں۔ ایک اکیڈمک لیکچر پر سیاست کیوں کی جا رہی ہے؟ مجھے دہلی میں کوئی بھی لیکچر دینے سے واقعی ڈر لگتا ہے۔ ہر چیز کا غلط حوالہ دیا جاتا ہے۔ میں اصل مفکر نہیں ہوں، میں ایک پروفیسر ہوں۔ مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے، لوگ اس پر سیاست کیوں کر رہے ہیں؟

      لیکچر کے دوران وی سی نے یہ بھی کہا کہ منواسمرتی میں خواتین کو دی گئی شودروں کی حیثیت اسے غیر معمولی طور پر رجعت پسند بناتی ہے۔ میں تمام خواتین کو بتاتی ہوں کہ منواسمرتی کے مطابق تمام خواتین شودر ہیں اس لیے کوئی بھی عورت یہ دعویٰ نہیں کر سکتی کہ وہ برہمن ہے یا کوئی اور چیز اور یہ صرف شادی کے ذریعے ہی آپ پر شوہر یا باپ کی ذات کی وجہ سے منتقل ہوسکتا ہے۔ میرے خیال میں یہ وہ چیز ہے جو غیر معمولی طور پر روایتی انداز ہے، جس کو بدلنے کی ضرورت ہے۔

      یہ بھی پڑھیں: 


      ایک نو سالہ دلت لڑکے کے حالیہ ذات پات کے تشدد کے بارے میں لے کر انہوں نے کہا کہ کوئی بھی خدا اعلیٰ ذات سے تعلق نہیں رکھتا۔ آپ میں سے زیادہ تر کو ہمارے دیوتاؤں کی ماخذ بشریاتی طور پر معلوم ہونا چاہیے۔ کوئی بھی دیوتا برہمن نہیں ہے، سب سے زیادہ ایک کھشتری ہے۔ بھگوان شیو کو ایک شیڈول کاسٹ یا شیڈولڈ ٹرائب ہونا چاہیے کیونکہ وہ ایک قبرستان میں سانپ کے ساتھ بیٹھا ہے اور اس کے پاس کپڑے بہت کم ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ برہمن قبرستان میں بیٹھ سکتے ہیں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: