ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

صحافت سیاست اور سماج-علماء و دانشور وں کا مطالبہ ، صحافی بدل سکتے ہیں ملک کی تقدیر

معروف عالم دین سیف عباس کہتے ہیں کہ اگر جمہوریت کے اس اہم ستون نے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھ کر صحافت کی دیرینہ قدروں کو بحال رکھا ہوتا تو ملک کا منظر نامہ ہی کچھ اور ہوتا افسوس ناک پہلو یہی ہے کہ یوں تو زندگی کے سبھی شعبوں میں خرابیاں در آئی ہیں لیکن سیاست و صحافت دوسرے شعبوں کی بنسبت زیادہ ہی خراب ہوئے ہیں بالخصوس مذہبی منافرت کے باب میں یہ منظر نامہ افسوس ناک ہونے کے ساتھ ساتھ تشویش ناک بھی نظر آتا ہے۔

  • Share this:
صحافت سیاست اور سماج-علماء و دانشور وں کا مطالبہ ، صحافی بدل سکتے ہیں ملک کی تقدیر
معروف عالم دین سیف عباس کہتے ہیں کہ اگر جمہوریت کے اس اہم ستون نے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھ کر صحافت کی دیرینہ قدروں کو بحال رکھا ہوتا تو ملک کا منظر نامہ ہی کچھ اور ہوتا افسوس ناک پہلو یہی ہے کہ یوں تو زندگی کے سبھی شعبوں میں خرابیاں در آئی ہیں لیکن سیاست و صحافت دوسرے شعبوں کی بنسبت زیادہ ہی خراب ہوئے ہیں بالخصوس مذہبی منافرت کے باب میں یہ منظر نامہ افسوس ناک ہونے کے ساتھ ساتھ تشویش ناک بھی نظر آتا ہے۔

لکھنؤ: ذرائع ابلاغ کے رول اور کچھ صحافیوں کے تعلق سے سماج کے ذمہ دار لوگ جن خیالات کی ترجمانی کررہے ہیں ان پر سنجیدہ غور و خوص کے بعد عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ معروف عالم دین سیف عباس کہتے ہیں کہ اگر جمہوریت کے اس اہم ستون نے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھ کر صحافت کی دیرینہ قدروں کو بحال رکھا ہوتا تو ملک کا منظر نامہ ہی کچھ اور ہوتا افسوس ناک پہلو یہی ہے کہ یوں تو زندگی  کے سبھی شعبوں میں خرابیاں در آئی ہیں لیکن سیاست و صحافت دوسرے شعبوں کی بنسبت زیادہ ہی خراب ہوئے ہیں بالخصوس مذہبی منافرت کے باب میں یہ منظر نامہ افسوس ناک ہونے کے ساتھ ساتھ تشویش ناک بھی نظر آتا ہے۔


اسی تبدیل کئے جانے اور ملک کو مثبت راہ میں لے جانے کی ضرورت ہے۔۔۔معروف دانشور سید بلال نورانی کہتے ہیں کہ مادّیت پسندی اور منفی سیاسی اپروچ رکھنے والے ارباب اقتدار کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بنے صحافیوں نے جنت جیسے ملک کو جہنم بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔۔صحافت کی پامال ہوتی قدروں اور کچھ صحافیوں کی ذہنی پراگندگی کے سبب صدیوں سے ساتھ رہ رہے لوگوں کے مابین نفرت کے ایسے بیج بودئے ہیں جن کی فصل کو متعصب سیاست داں کاٹ رہے ہیں۔




بلال نورانی نے یہ بھی کہا کہ چینلز پر بیٹھنے والے نام نہاد ملاؤں نے بھی اُن متعصب صحافیوں کا بھر پور تعاون کیا ہے جو اپنے سیاسی آقاؤں کے اشارے پر ملک میں فرقہ پرستی اور نفرت کو فروغ دینے کا کام کررہے ہیں۔ سید بلال نورانی کہتے ہیں کہ اگر ہمارے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے صحافی ملک کو بہتری کے لئے تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیں تو بڑا انقلاب آ سکتا ہے لیکن یہ ایسا خواب ہے جس کی تعبیر فی الحال ممکن نظر نہیں آتی۔ مولانا سیف عباس اور سید بلال نورانی سمیت سماج کے کچھ دیگر اہم دانشوروں نے بھی میدان صحافت سے جڑے اہم لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس نظریے کو تحریک کی شکل دینے کے لئے ایسے اقدامات کریں جس سے اس ملک اور ملک میں رہنے والے باشندوں کو تحفظ فراہم کیا جاسکے۔
First published: Apr 23, 2020 03:27 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading