ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

مولانا اقبال کا بری ہونا قانون کی فتح: ارشد مدنی،جمعیۃ کو خاطی افسران کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار

نئی دہلی ۔ جمعیتہ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے گذشتہ9سال سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے زندگی گذار رہے مولانا محمد اقبال کو نا کافی ثبوتوں کی بنیاد پر آج لکھنو کی خصوصی عدالت کے ذریعہ باعزت بری کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Feb 04, 2016 07:13 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
مولانا اقبال کا بری ہونا قانون کی فتح: ارشد مدنی،جمعیۃ کو خاطی افسران کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار
مولانا سید ارشد مدنی: فائل فوٹو

نئی دہلی ۔ جمعیتہ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے گذشتہ9سال سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے زندگی گذار رہے مولانا محمد اقبال کو نا کافی ثبوتوں کی بنیاد پر آج لکھنو کی خصوصی عدالت کے ذریعہ باعزت بری کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ لکھنؤ جیل میں قائم خصوصی عدالت کے جج سید آفتاب حسین رضوی نے آج استغاثہ کی جانب سے پیش تمام ثبوتوں کو مسترد کر تے ہوئے مولانا کو تمام الزامات سے با عزت بری کر دیا۔


یہاں جاری ایک ریلیز میں مولانا مدنی نے کہا ہے کہ اب انہیں سپریم کورٹ میں زیر غور اس معاملے پر فیصلے کا انتظار ہے جس میں اکشر دھام پرحملہ کے معاملے سےملزمین کو بری کر دئے جانے کے بعد خاطی پولس افسران کو سزا دلانے اور ن کی تنخواہوں اور پینشن سے رقم کاٹ کر معاوضہ ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاطی پولس افسران کو سزا دئے بغیر یہ ممکن نہیں کہ ایسے عناصر مستقبل میں کسی بھی بے گناہ شخص کوفرضی معاملہ میں پھنسانے سے قبل دس مرتبہ سوچیں۔ جمعیت کی طرف سے جاری ریلیز کے مطابق مولانا محمد اقبال کو 2008میں دہلی پولس کی اسپیشل سیل نے نئی دہلی ریلوے اسٹیشن سے گرفتار کیا تھا ۔ ان پر ممنوعہ تنظیم حرکت الجہاد سے تعلق رکھنے کا الزام لگایا گیا تھا اور ا ن کے پاس سے ایک اے کے 47رائفل،60زندہ کارتوس،10ڈیٹونیٹر اور دھماکہ خیز مادہ ضبط کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔انہیں اکتوبر 2012میں لکھنؤ جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔ ملزم کے وکیل کے مطابق ایک آپریشن کے ذریعے ان کے سر اور پیٹ میں’’ مقناطیسی چپس ‘‘ فٹ کر دی گئی تھیں، جن کی وجہ سے ان کے سر میں ایک شور سا مچتا رہتا تھا۔تہاڑ جیل میں مولانا اقبال نے اس چپس کو نکلوانے کی درخواست بھی کی تھی لیکن اسے مسترد کر دیا گیا تھا۔


آج کے فیصلہ پر مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ عدلیہ اپنارول انتہائی غیر جانبداری کے ساتھ ادا کر رہی ہے ۔ اب تک کئی بے گناہ لوگ عدالتوں سے رہا کئے جا چکے ہیں لیکن نئی گرفتاریوں کا سلسلہ برقرار ہے جو موجب تشویش ہے۔

First published: Feb 04, 2016 07:12 PM IST