ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

گھر۔گھر راشن اسکیم پر تنازعہ! سی ایم کیجریوال کا حکومت سے سوال، پزا کی ہوم ڈلیوری ہو سکتی ہے تو راشن کی کیوں نہیں

دہلی کے وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ راشن کی ڈور ٹو ڈور فراہمی اگلے ہفتے سے شروع ہونے والی تھی۔ تمام تیاریاں ہوچکی تھیں اور اچانک آپ نے 2 دن پہلے کیوں اسے روک لیا؟

  • Share this:

نئی دہلی: ملک کی راجدھانی دہلی میں  گھر گھر گھر راشن اسکیم (Ghar Ghar Ration Scheme) پر سی ایم اروند کیجریوال اور مرکزی حکومت کے درمیان تنازعہ بڑھتا جارہا ہے۔ اس درمیان دہلی کے وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ راشن کی ڈور ٹو ڈور فراہمی اگلے ہفتے سے شروع ہونے والی تھی۔ تمام تیاریاں ہوچکی تھیں اور اچانک آپ نے 2 دن پہلے کیوں اسے روک لیا؟ اسے یہ کہتے ہوئے خارج کردیا گیا ہے کہ ہم نے مرکزی حکومت سے اس کی منظوری نہیں لی۔ یہ غلط ہے۔


اس کے علاوہ اروند کیجریوال نے کہا کہ ہم آپ کی منظوری ایک بار نہیں بلکہ پانچ بار لے چکے ہیں۔ قانون کے ذریعہ کسی منظوری کی ضرورت نہیں ہے۔ گھر میں راشن کی فراہمی کیوں نہیں ہونی چاہئے؟ آپ راشن مافیا کے ساتھ کھڑے ہوں گے تو غریبوں کے ساتھ کون کھڑا ہوگا؟ ان 70 لاکھ غریب لوگوں کا کیا ہوگا جن کا راشن یہ راشن مافیا  چوری کر لیتے ہیں۔


پزا برگر کی ہوم ڈلیوری تو راشن کی کیوں نہیں؟

اروند کیجریوال نے کہا ، 'اگر اس ملک میں اسمارٹ فون ، پزا ہوم ڈلیوری ہوسکتی ہے تو پھر راشن کی کیوں نہیں؟ کیا آپ کو راشن مافیا سے ہمدردی ہے ، وزیر اعظم سر؟ کون سنے گا ان غریبوں کی؟ مرکز نے ہمارے منصوبے کے خلاف کورٹ میں اعتراض ظاہر  نہیں کیا تو اب اسے کیوں خارج کیا جارہا ہے؟


جانیں کیا ہے تنازعہ کی وجہ؟
دہلی حکومت کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت نے اس انقلابی راشن کی ڈور اسٹیپ ڈلیوری اسکیم کو روک دیا ہے۔ حکومت کا دعوی ہے کہ ایل جی نے دو وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے راشن کی ڈور اسٹیپ ڈلیوری اسکیم کے نفاذ فائل کو خارج کردیا۔ پہلا مرکز نے ابھی تک اس اسکیم کو منظوری نہیں دی ہے اور دوسرا  عدالت میں اس کے خلاف  مقدمہ زیر سماعت ہے۔ دہلی حکومت کے مطابق  ایک دو دن کے اندر پوری دہلی میں راشن کی تقسیم کی اسکیم شروع کرنے کے لئے پوری طرح تیار تھی جس سے دہلی میں 70 لاکھ غریب مستفید افراد کو فائدہ ملتا۔

 
Published by: Sana Naeem
First published: Jun 06, 2021 01:03 PM IST