உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مذہب کی بنیاد پر بنائی گئی حکومت دیرپا نہیں ہوسکتی، ہندستان کے مسلمانوں کو ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں: جسٹس سچر

    نئی دہلی۔  ’’قوم پرستی کا مطلب ملک میں سبھی مذاہب کے ماننے والے برابر ہیں اس کی تائید ہندستانی آئین کے ابتدائیہ سے بھی ہوتی ہے اور اس کی سیکولر وجمہوری نظام کے طور پر تشریح کی گئی ہے۔

    نئی دہلی۔ ’’قوم پرستی کا مطلب ملک میں سبھی مذاہب کے ماننے والے برابر ہیں اس کی تائید ہندستانی آئین کے ابتدائیہ سے بھی ہوتی ہے اور اس کی سیکولر وجمہوری نظام کے طور پر تشریح کی گئی ہے۔

    نئی دہلی۔ ’’قوم پرستی کا مطلب ملک میں سبھی مذاہب کے ماننے والے برابر ہیں اس کی تائید ہندستانی آئین کے ابتدائیہ سے بھی ہوتی ہے اور اس کی سیکولر وجمہوری نظام کے طور پر تشریح کی گئی ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔  ’’قوم پرستی کا مطلب ملک میں سبھی مذاہب کے ماننے والے برابر ہیں اس کی تائید ہندستانی آئین کے ابتدائیہ سے بھی ہوتی ہے اور اس کی سیکولر وجمہوری نظام کے طور پر تشریح کی گئی ہے۔ برابری کا یہ تصور اسلام میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری خطبہ میں کہی گئی اس تلقین سے بھی ہوتا ہے کہ نہ کالے کو گورے پر اور نہ گورے کو کالے پر کوئی فوقیت حاصل ہوگی۔‘‘ ان خیالات کا اظہار یہاں انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز (آئی او ایس) کے زیر اہتمام کانسٹی ٹیوشن کلب کے ڈپٹی اسپیکر ہال میں ’’عصر حاضر میں قومیت: ایشوز اور چیلنجز‘‘ کے موضوع پر سمینار کی صدارت کرتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس راجندر سچر نے کیا۔


      انھوں نے کہا کہ یہ کہنا قطعاً غلط ہے کہ ہندو مذہب اسلام سے بہتر ہے اور مذہب کی بنیاد پر بنائی گئی حکومت دیر پا نہیں ہوسکتی اس لیے ہندستان کے مسلمانوں کو ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ موجودہ مرکزی حکومت کی تنقید کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کو تباہ کرنے کے لیے ہر طرح کی کوشش کی گئی۔ فرقہ واریت کو ہوا دی گئی اور بے قصور مسلمانوں کو مختلف سخت قوانین کے تحت گرفتار کیا گیا لیکن عدم ثبوت کی بنا پر انھیں عدالت سے بالآخر رہا بھی کیا گیا۔ بنکروں کی حالت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اپنے لکھنؤ دورہ کے دوران انھوں نے صوبے کے وزیرا علیٰ کا دھیان اس جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ بنکروں کو درپیش مسائل میں دھاگے کا نہ ملنا سب سے بڑا مسئلہ ہے جس کا ازالہ کیا جانا ضروری ہے۔


      بغاوت کے قانون پر تبصرہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پی یو سی ایل کے صدر ہونے کی حیثیت سے سبھی سیاسی پارٹیوں سے اپیل کی تھی کہ وہ حکومت پر دباؤ ڈالیں کہ اس قانون کو واپس لیا جائے۔ برطانیہ جس نے اس قانون کو بنایا تھا اس نے اپنے یہاں اس قانون کو بہت پہلے ختم کردیا ہے تو کیا وجہ ہے کہ ہندستان میں اسے کیوں نہیں ختم کیا جارہا ہے؟
      معروف سماجی کارکن ہرش مندر نے اپنی تقریر میں کیا کہ آج ہم ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں جارحانہ قوم پرستی کا تصور پیش کیا جارہا ہے۔ اس کی بنیاد میں دو تصورات ہیں۔ ایک تصور تو پاکستان ہے جس میں ہم مذہب کو ایک جگہ رہنے کی بات کی گئی ہے جبکہ دوسرا تصور ہندستان کا ہے جس میں کثرت میں وحدت کے فلسفہ کو مانتے ہوئے سبھی مذہب عقیدہ کے احترام کی بات کی گئی ہے لیکن اس نظریہ کو تمام طریقوں سے چیلنج کیا جارہا ہے۔ پاکستان نظریہ بھی پروان نہیں چڑھ پایا کیونکہ وہاں بنگالی اور اردو بولنے والوں کے ساتھ جو تفریق کی گئی اس کے نتیجہ میں ایک حصہ اس سے الگ ہوگیا۔


      انہوں نے مزید کہا کہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بنگالیوں کے خلاف کی گئی کارروائی کے نتیجہ میں تقریباً 30لاکھ لوگوں کا قتل ہوا۔ دو نظریوں کا ٹکراؤ تیسرے نظریے سے بھی ہے جسے ہندو مہا سبھا نے آگے بڑھایا۔ انھوں نے کہا کہ ہندستانی نظریہ آزادی، برابری پر زور دیتا ہے لیکن اس کے ساتھ بھائی چارگی بھی اتنا ہی اہم ہے۔ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کئی ایسے مندر ہیں جنھیں رام جنم بھومی سے منسوب کیا جاتا ہے لیکن ہندتووادی طاقتیں متنازعہ عبادت گاہ کو ہی رام جنم بھومی مانتی ہیں۔ ان ہندوتواوادیوں کی دلیل ہے چونکہ اکثریت ہندوؤں کی ہے اس لیے ان کے جذبات کے احترام میں وہاں سے مسجد کا ہٹایا جانا ضروری ہے۔ ہندوتو وادی تنظیموں کا ماننا ہے کہ مسلمان ہمارے اندرون دشمن ہیں۔

      First published: