ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

الہ آباد ہائی کورٹ : اپنے فیصلوں سے ریکارڈ بنانے والے جسٹس سدھیر اگروال سبکدوش 

جسٹس سدھیر اگروال نے اپنے کام کے طریقے اور مقدمات کے تصفیہ میں تیزی کے سبب الہ آباد ہائی کورٹ میں جلد ہی ایک ممتاز مقام حاصل کرلیا ۔

  • Share this:
الہ آباد ہائی کورٹ : اپنے فیصلوں سے ریکارڈ بنانے والے جسٹس سدھیر اگروال سبکدوش 
الہ آباد ہائی کورٹ : اپنے فیصلوں سے ریکارڈ بنانے والے جسٹس سدھیر اگروال سبکدوش 

الہ آباد : ملک میں سب سے زیادہ مقدمات کا تصفیہ کرکے ایک نیا ریکارڈ بنانے والے الہ آباد ہائی کورٹ کے سینئر جسٹس سدھیر اگروال اپنے عہدے سے سبکدوش ہو گئے ہیں ۔ جسٹس سدھیر اگروال نے صرف پندرہ برسوں میں 104060مقدمات کا تصفیہ کرکے ملک میں ہی نہیں بلکہ پورے جنوبی ایشیا میں ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے ۔ جسٹس سدھیر اگروال نے 5 اکتوبر2005 کو الہ آباد ہائی کورٹ میں بطور ایڈیشنل حج کے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تھا ۔ جسٹس سدھیر اگروال نے اپنے کام کے طریقے اور مقدمات کے تصفیہ میں تیزی کے سبب الہ آباد  ہائی کورٹ میں جلد ہی ایک ممتاز مقام حاصل کرلیا ۔ جسٹس سدھیر اگروال مقدمات میں تاریخ پر تاریخ دینے کی بجائے اس کے جلد تصفیہ پر زور دیتے تھے ۔ یہی وجہ رہی ہے کہ ان کی بنچ میں زیر سماعت مقدمہ کا تصفیہ بہت جلد ہو جاتا تھا ۔


جسٹس سدھیر اگروال نے اپنی پندرہ سالہ مدت کار میں سینکڑوں کی تعداد میں اہم اور تاریخی فیصلے سنائے ہیں ۔ ان میں سے چند تاریخی فیصلوں کا ذکر یہاں کیا جا رہا ہے ۔

*جسٹس سدھیر اگروال نے اپنے ایک تاریخی فیصلہ میں اقلیتی تعلیمی اداروں میں ہونے والی تقرریوں میں شفافیت لانے کے لئے اہم فیصلہ دیا  تھا ۔ انہوں نے اقلیتی تعلیمی اداروں میں تقرری کیلئے امید واروں کے لئے تحریری امتحان کرانے کی ہدایت دی تھی ۔ تاکہ تعلیمی اداروں میں پڑھانے والے ٹیچروں کی اہلیت کو ثابت کیا جا سکے ۔

*جسٹس سدھیر اگروال نے یو پی کے سرکاری پرائمری اسکولوں بہتر بنانے کے لئے کئی اہم فیصلے دئے ۔ ان میں سرکاری اسکولوں میں اعلیٰ سرکاری افسران کے بچوں کو پڑھانے کی تجویز بھی شامل ہے ۔ جسٹس سدھیر اگروال کی اس تجویز کی نہ صرف پذیرائی ہوئی ، بلکہ کئی  سول سرونٹ نے اپنے بچوں کا داخلہ سرکاری اسکولوں میں کرانے پر آمادگی بھی ظاہر کی ۔

*جسٹس سدھیر اگروال بابری مسجد رام جنم بھومی مقدمہ کا فیصلہ کرنے والی لارجر بنچ کے بھی رکن تھے ۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے بابری مسجد رام جنم بھومی کی آراضی کو تقسیم کرکے تینوں فریقوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ دیا تھا ۔ بعد میں الہ آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا ۔
*جسٹس سدھیر اگروال نے جیوتش پیٹھ پر دعوی کے اس پیچیدہ مقدمے کا بھی تصفیہ کیا ، جس میں ملک کے دو بڑے مذہبی رہنماؤں نے اپنے شنکراچاریہ ہونے کا دعویٰ کیا تھا ۔ سوامی سروپا نند سرسوتی اور سوامی واسودیوانند سرسوتی نے شنکراچاریہ ہونے کا اپنا اپنا دعویٰ عدالت میں پیش کیا تھا ۔ بعد میں اس مقدمہ کا فیصلہ سوامی سروپا نند سرسوتی کے حق میں ہوا ۔
جسٹس سدھیر اگروال اسی مہینے اپنے عہدے سے سبکدوش ہو گئے ہیں ۔ لیکن اپنی غیر معمولی خدمات کے ذریعہ انہوں نے جو رکارڈ قائم کیا ہے ، وہ ملک کی عدلیہ اور سماج میں  ہمیشہ  یاد رکھا گا ۔
First published: Apr 26, 2020 06:39 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading