ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

میری بھارت ماتا صرف چمکدار ساڑی نہیں پہنتی : کنہیا کمار

نئی دہلی : جے این یو طالب علم یونین کے صدر کنہیا کمار کے جیل سے باہر آنے کے بعد ان کا سی این این / آئی بی این کے سینئر صحافی بھوپندر چوبے نے انٹرویو لیا ۔ اس میں کنہیا نے اپنی بات کو موثر طریقے سے رکھتے ہوئے کہا کہ میرا آئیڈل روہت ویمولا ہے نہ کہ افضل گرو ۔

  • Pradesh18
  • Last Updated: Mar 04, 2016 09:06 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
میری بھارت ماتا صرف چمکدار ساڑی نہیں پہنتی : کنہیا کمار
نئی دہلی : جے این یو طالب علم یونین کے صدر کنہیا کمار کے جیل سے باہر آنے کے بعد ان کا سی این این / آئی بی این کے سینئر صحافی بھوپندر چوبے نے انٹرویو لیا ۔ اس میں کنہیا نے اپنی بات کو موثر طریقے سے رکھتے ہوئے کہا کہ میرا آئیڈل روہت ویمولا ہے نہ کہ افضل گرو ۔

نئی دہلی : جے این یو طالب علم یونین کے صدر کنہیا کمار کے جیل سے باہر آنے کے بعد ان کا سی این این / آئی بی این کے سینئر صحافی بھوپندر چوبے نے انٹرویو لیا ۔ اس میں کنہیا نے اپنی بات کو موثر طریقے سے رکھتے ہوئے کہا کہ میرا آئیڈل  روہت ویمولا  ہے نہ کہ افضل گرو ۔


خصوصی انٹرویو میں کنہیا نے کہا کہ میرے لئے بھگت سنگھ آئکان ہیں ، روہت ویمولا رول ماڈال ہیں ۔ جو نام نہاد طاقتور لوگ ہیں، وہ دراصل کمزور ہیں، جبکہ ہم طاقتور لوگ ہیں ۔ میں نے ایک طالب علم ہوں ، معمولی کنبہ سے آتا ہوں ۔ ایک طالب علم کا جو فرض ہونا چاہئے، اسی کو پورا کررہا ہوں ۔


کنہیا نے کہا کہ جیل سے رہا ہونے کے بعد ملنے کے لئے میری ماں دہلی نہیں آئی، بلکہ چچا اور بھائی آئے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ خوفزدہ مت ہونا ۔ وقت میں ایک طاقت ہوتی ہے ۔ کوئی بھی دن ہمیشہ نہیں رہتا ۔ جیسے مودی جی کے اچھے دن نہیں آئے، ویسے ہی آپ بھی ہمیشہ برے دن نہیں رہیں گے ۔ مودی جی بہت طاقتور لوگ ہیں ۔ سوا سو کروڑ لوگوں کے آدمی ہیں ۔ وہ سوٹ بوٹ والے آدمی ہیں ۔ ہم آمنے سامنے تب ہوتے ہیں جب وہ روزگار نہیں دیتے، 15 لاکھ نہیں دیتے، فیلو شپ بند ہو جاتی ہے، تب لڑتے ہیں ۔


کنہیا نے کہا کہ میں اپنی طرف سے کوئی بڑی یا چھوٹی لائن نہیں کھیںچ رہا ہوں ۔ مجھے اگر دو پارٹی بتائیں گے ، تو ان کے درمیان موازنہ کروں گا ۔ لیکن یہ نہیں کہوں گا کہ ایک کا تیسرے سے کیا تعلق ہے ۔ بے باک انداز میں کنہیا نے کہا کہ آج ہمارے آئین کے پلر کو توڑا جا رہا ہے ۔ خواہ عدم برداشت کا سوال ہو، اصل مسئلے سے بھٹکانے کی بات ہو یا مندر مسجد کی بات ہو ۔ غداری کے الزام پر کنہیا نے کہا کہ سیڈیشن کا تکنیکی مطلب ہے حکومت سے بغاوت ، یہ ملک سے غداری نہیں ہوتی ۔ یہ اس لئے بولا جا رہا، تاکہ اصل مسائل سے بھٹكايا جا سکے ۔ حقیقی مسائل سے بھٹکانے کی کوشش ہے ۔


اپنے نظریات کے بابت کنہیا نے کہا کہ میری جو سوچ ہے، وہ سوچ ڈسکوری آف انڈیا سے آتی ہے ۔ میرے حساب سے بھارت ماتا صرف گوری نہیں، کالی بھی ہوگی ۔ پھٹے کپڑے بھی ہوں گے، سلوار بھی ہوگا، قبائلیوں کا کپڑا بھی ہوگا ۔ آر ایس ایس پر حملہ کرتے ہوئے کنہیا نے کہا کہ اس وقت جو ایک طرح کے نظریات اور سوچ کو تھوپنے کی سازش ہو رہی ہے، میں اس کو نیشنلزم نہیں، سنگھزم کہوں گا ۔ سگھزم کا مطلب ملک کے نظریات نہیں، بلکہ ایک خاص نظریہ ہے۔


کنہیا نے کہا کہ میں جے این یو کا ایک طالب علم ہو اور جو طالب علم یہاں پڑھتے ہیں، ان کا ایک عام سا نمائندہ ہوں ۔ میری ذمہ داری فکس کرنے کے عوض انہیں اپنی ذمہ داری درست کرنی چاہئے ۔ کنہیا نے کہا کہ جو نعرے لگا رہے ہیں، وہ غلط ہیں ۔ لیکن کیا ایسے نعرے لگانے سے ملک ٹوٹ جائے گا؟ میں انتہائی معمولی کنبہ سے آتا ہوں ۔ پڑھائی میں یہ سکھایا جاتا ہے کہ جو کمزور ہے، اس کے لئے لڑنا چاہئے ۔


حیدرآباد یونیورسٹی کے طالب علم روہت ویمولا پر کنہیا نے کہا کہ اس کا قتل کیا گیا ۔ کچھ لوگ اسے خود کشی کہتے ہیں۔ اس واقعہ کے بعد پیدا ہوئے ڈر نے ہی مجھے طاقت دی ہے ۔ یہ نظام یعنی یہ حکومت اپنے ہی لوگوں کو مرنے پر مجبور کرتی ہے ۔


افضل گرو کے معاملے پر کنہیا نے کہا کہ نہ میں سپریم کورٹ کا جسٹس ہوں، نہ میں سیاسی لیڈر ہوں اور نہ ان کا رشتہ دار ہوں ۔ لیکن نظریاتی طور پر ڈیتھ پینلٹی کے ہم مخالف ہیں ۔ اے بی وی پی پر کنہیا نے کہا کہ وہ قدامت پسندی کی نمائندگی کرنے والی تنظیم ہے، باقی ترقی پسند ہیں ۔ ہم میں  بھی اختلافات ہیں ، لیکن ایک جگہ پر سارے لوگ کھڑے ہوتے ہیں ۔


اس ملک کے اندر ایک شدید نظریاتی بحران پیدا ہوگیا ہے ہے ۔ یہ کافی حد تک میڈیا کی وجہ سے ہوا ہے ۔ مسئلہ پر بات چیت نہ ہو، اس کے لئے سپرفیشیئل چیزیں اٹھائی جاتی ہیں ۔ جو ملک، آئین سے حقیقت میں محبت کرتے ہیں وہ اس خطرے کو محسوس کرتے ہیں ۔ انٹرویو کے آخر میں کنہیا نے کہا کہ تمام لوگوں کو شکریہ کو میری حمایت میں کھڑے ہوئے ۔ جو میرے لئے کھڑے ہوئے وہ ملک کے لئے کھڑے ہوئے ہیں ۔ میں لیڈر بننے نہیں جا رہا ، میں طالب علم ہوں ۔

First published: Mar 04, 2016 09:06 PM IST