ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جے این میں یو آئیسا کی جیت پر کنہیا کمار نے کہا : ہم نے فرضی حب الوطنی کا شٹر ڈاون کردیا

کنہیار کمار نے کہا کہ ہم اس کو ایک الیکشن کی طرح نہیں دیکھتے ہیں ۔ یہ الیکشن دراصل جے این یو کا ریفرنڈم ہے ، ان لوگوں اور ان سازشوں کے خلاف جو جے این یو کو بند کرنا چاہتے تھے

  • IBN Khabar
  • Last Updated: Sep 11, 2016 03:24 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
جے این میں یو آئیسا کی جیت پر کنہیا کمار نے کہا : ہم نے فرضی حب الوطنی کا شٹر ڈاون کردیا
کنہیار کمار نے کہا کہ ہم اس کو ایک الیکشن کی طرح نہیں دیکھتے ہیں ۔ یہ الیکشن دراصل جے این یو کا ریفرنڈم ہے ، ان لوگوں اور ان سازشوں کے خلاف جو جے این یو کو بند کرنا چاہتے تھے

نئی دہلی : جے این یو طلبہ یونین انتخابات میں بایاں محاذ نے مرکزی پینل کی چاروں سیٹوں پر قبضہ جمایا ۔ صدر کے عہدے پر آئیسا کے موہت کمار پانڈے نے جیت درج کی ہے ۔ الیشکن میں اے بی وی پی کو بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔  اس سلسلہ میں طلبہ یونین کے سابق لیڈر اور جے این یو تنازع میں سرخیوں میں آئے کنہیا کمار سے آئی بی این خبر کے ایڈیٹر افسر احمد نے خاص بات چیت کی ۔ نتائج کے بعد کنہیا کمار فیس بک پر پہلی مرتبہ آئی بی این خبر کے ساتھ لائیو آئے ۔


ایک سوال کہ جواب میں کہ جے این یو میں املی جیت کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں کیا پیغام دینا چاہتے ہیں ، کنہیار کمار نے کہا کہ ہم اس کو ایک الیکشن کی طرح نہیں دیکھتے ہیں ۔ یہ الیکشن دراصل جے این یو کا ریفرنڈم ہے ، ان لوگوں اور ان سازشوں کے خلاف جو جے این یو کو بند کرنا چاہتے تھے ۔ اے بی وی پی کو بری طرح شکست ملی ہے ۔ اس مرتبہ انہیں آفس بیئرر میں بھی جگہ نہیں ملی ہے ۔  یہ شکست ان پر کیلئے ایک طمانچہ ہے کہ آپ جے این یو جیسی جگہ کو کس طرح بدنام کر سکتے ہیں ۔


آپ کی اس کوشش کو ہم برداشت نہیں کریں گے اور ہم اس خیال کے ساتھ کھڑے ہوں گے ، جس خیال کے ساتھ جے این یو کھڑا ہوتا ہے ۔ مساوات کی سوچ کے ساتھ جے این یو کھڑا ہوتا ہے ۔ اگر آپ جے این یو کو بند کرنا چاہتے ہیں ، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ہندوستان کی آئینی روایت کو کمزور کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ جیت کسی ایک پارٹی یا نظریہ کی جیت نہیں ہے ، بلکہ جے این یو کی جیت ہے ۔


ساتھ ہی ساتھ  جیت سے ایک واضح پیغام حکومت کو بھی ملا ہے کہ ہم جس سوالوں کو لے کر لڑ رہے تھے ، وہ سوالات آج بھی زندہ ہیں اور انہیں لے کر ہم لڑیں گے ۔ وہ سوال ہے کہ سب کو تعلیم ملنی چاہئے، روہت ویمولا کو انصاف ملنا چاہئے ، اس ملک میں دلتوں ، پچھڑوں ، خواتین  اور اقلیتوں پر جو مظالم ہو رہے ہیں ، وہ بند ہونے چاہئیں ۔ ان مظالم کے خلاف جے این یو کھڑا ہوتا آیا ہے اور کھڑا ہوتا رہے گا ۔

ایک اور سوال کہ سیاسی ماہرین اس کو ایک مضبوط سیاسی پیغام مانتے ہیں ، آپ کی نظر میں اس کا مستقبل  میں کیا اثر پڑے گا ، کنہیا نے کہا کہ اس سے ایک واضح پیغام گیا ہے کہ اگر اپوزیشن متحد ہو جائے تو آر ایس ایس جیسے ادارے کو کہیں بھی اور کسی بھی وقت شکست دی جا سکتی ہے ۔ ساتھ ہی پیغام یہ بھی ہے کہ اگر آپ کی تحریک میں ساتھ ہوتے ہیں اور اس کو انتخابی دنگل میں لے جاتے ہیں ، تو آپ کو ایک اچھا نتیجہ ملتا ہے۔  اب بھی فرقہ پرست ، فاشسٹ اور نسل پرست سیاست اتنی مضبوط نہیں ہوئی ہے اور ہماری جمہوری روایت اتنی کمزور نہیں ہوئی ہے کہ آسانی سے وہ اس ملک میں فاشزم کو لے آئیں گے ۔ اگر ہم اپنی انا کو پیچھے چھوڑ کر منظم ہوتے ہیں اور سیاسی مفاد آگے رکھتے ہیں ، تو کبھی بھی ہم اپنی سیاست کو کامیاب کرسکتے ہیں اور ہمارے خلاف اور ملک کے خلاف جو سیاست ہو رہی ہے اس کو شکست دے سکتے ہیں ۔
First published: Sep 11, 2016 03:10 PM IST