உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کنہیا کا ایکسکلوزیو ویڈیو، وکیلوں نے لات اور گھونسوں سے میری پٹائی کی

    نئی دہلی۔ غداری کے ملزم جے این یو طلبہ یونین کے صدر کنہیا کمار نے پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں پٹائی معاملے میں اپنا بیان سپریم کورٹ کے سینئر وکلاء کے سامنے درج كرايا ہے۔

    نئی دہلی۔ غداری کے ملزم جے این یو طلبہ یونین کے صدر کنہیا کمار نے پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں پٹائی معاملے میں اپنا بیان سپریم کورٹ کے سینئر وکلاء کے سامنے درج كرايا ہے۔

    نئی دہلی۔ غداری کے ملزم جے این یو طلبہ یونین کے صدر کنہیا کمار نے پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں پٹائی معاملے میں اپنا بیان سپریم کورٹ کے سینئر وکلاء کے سامنے درج كرايا ہے۔

    • IBN Khabar
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی۔ غداری کے ملزم جے این یو طلبہ یونین کے صدر کنہیا کمار نے پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں پٹائی معاملے میں اپنا بیان سپریم کورٹ کے سینئر وکلاء کے سامنے درج كرايا ہے۔ سینئر وکلاء کی ٹیم اور کنہیا کے درمیان ہوئے سوال جواب کا ایکسکلوزیو ویڈیو سامنے آیا ہے جس میں وکلاء اور کنہیا کمار کے درمیان ہوئی بات چیت درج ہے۔ سپریم کورٹ کی ٹیم کے سامنے پیش ہونے کے دوران کنہیا کمار نے یہ دعوی کیا کہ کورٹ میں اس کے ساتھ مارپیٹ کے ملزم وکیل کو اس نے پہچان لیا تھا۔

      اس ویڈیو میں کنہیا نے کہا کہ کورٹ میں گھستے ہی مجھ پر حملہ کیا گیا۔ وکلاء نے مجھے گرا دیا تھا اور مجھے لات اور گھونسوں سے پیٹ رہے تھے۔ میرے کپڑے پھٹ گئے، پینٹ اتر گئی اور چپل نکل گئے۔ پٹائی کے دوران پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔ وکلاء نے کچھ اور وکلاء کو بھی بلایا تھا۔ میں نے جج صاحب کو کہا کہ پہلی بار جب میں آیا تو کچھ نہیں ہوا تھا۔ میں نے جج صاحب سے کہا کہ مجھے قانون پر پورا بھروسہ ہے۔

      اس کی اطلاع اس نے وہاں موجود پولیس اہلکاروں کو بھی دی تھی لیکن اس کے بعد بھی ملزم وکیل کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ اس ایکسکلوزیو ویڈیو میں کنہیا کمار نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ جس وقت اس کے ساتھ مارپیٹ ہو رہی تھی اس وقت دہلی پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔ وہیں مار پیٹ کے الزام میں وکرم چوہان نے اس پر صفائی دیتے ہوئے کہا کہ مارپیٹ کے ویڈیو میں میں نہیں تھا، وہاں کوئی مار پیٹ نہیں ہوئی تھی۔

      بتا دیں کہ پٹیالہ ہاوس کورٹ میں پیشی کے دوران کنہیا کمار کے ساتھ وکلاء نے مارپیٹ کی تھی جس کے بعد سپریم کورٹ نے سماعت پر روک لگاتے ہوئے معاملے کی مکمل معلومات لینے کے لئے سینئر وکلاء کی ایک ٹیم تشکیل دی تھی۔
      First published: