உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سکھ مخالف فسادات سے مختلف تھے 2002 کے گجرات کے فسادات: کنہیا کمار

    فائل فوٹو

    فائل فوٹو

    نئی دہلی۔ غداری کے الزام کا سامنا کررہے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) طلبا یونین کے صدر کنہیا کمار نے ایک بار پھر مرکز کی نریندر مودی حکومت پر بالواسطہ حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1984 میں ہوئے سکھ مخالف فسادات اور 2002 میں گجرات میں ہوئے فسادات میں بہت فرق ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔  غداری کے الزام کا سامنا کررہے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) طلبا یونین کے صدر کنہیا کمار نے ایک بار پھر مرکز کی نریندر مودی حکومت پر بالواسطہ حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1984 میں ہوئے سکھ مخالف فسادات اور 2002 میں گجرات میں ہوئے فسادات میں بہت فرق ہے۔ مؤرخ وپن چندرا کے یوم پیدائش پر جے این یو کیمپس میں ’جشن آزادی‘ کے نام سے کل منعقد ایک پروگرام میں کنہیا نے کہا کہ سکھ مخالف فسادات مشتعل بھیڑ کا نتیجہ تھے جبکہ گجرات کے فسادات سرکاری مشینری کی حمایت سے ہوئےتھے، اس لئے دونوں میں کافی فرق ہے ۔ اس نے کہا کہ بھیڑ کی طرف سے عام آدمی کو قتل کرنا اور سرکاری مشینری کے ذریعے قتل عام کئے جانے میں بڑا فرق ہوتا ہے۔


      کنہیا نے کہا کہ آج کل یونیورسٹیوں میں طلبا کو کچلنے کی جو مہم چلائی جارہی ہے وہ بھی گجرات کے فسادات کی طرح ہی ہے۔ یہ ایک طرح کی فرقہ وارانہ فسطائیت ہے۔ اس طرح کی فسطائیت میں مکمل طور پرسرکاری مشینری ہی ظلم و زیادتی پر آمادہ ہوجاتی ہے۔ یہ فرقہ پرست فسطائیت آج سب سے بڑا خطرہ ہے۔ اس نے کہا کہ موجودہ مرکزی حکومت کو دانشوروں کی حمایت حاصل نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ دانشور طبقہ مودی حکومت کا دفاع یا حمایت نہیں کر رہا ہے۔


      دہشت گردی کے لئے ہمیشہ مسلمانوں کو قصور وار قرار دئے جانے کی روایت کو اسلامو فوبیا قرار دیتے ہوئے کنہیا نے کہا کہ آج کے دہشت گردی کے دور میں تمام لوگوں کو اسلامو فوبیا ہو گیا ہے۔ کہیں بھی کوئی بھی دہشت گردانہ واقعہ پیش آتا ہے تو اسے براہ راست اسلام یا مسلمانوں سے جوڑ کر دیکھا جانے لگتا ہے، یہ غلط ہے، کسی بھی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے تاریخ اور حقیقت کو پوری طرح سمجھنا چاہئے۔ پروگرام سےکنہیا کے علاوہ غداری کے الزام کا سامنا کر رہے دو دوسرے طلبا انربان بھٹاچاریہ اور عمر خالد نے بھی خطاب کیا۔ بہت سے مورخین نے بھی اس موقع پر اپنے خیالات ظاہر کئے۔

      First published: