ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

قنوج: تحصیل دار کی پٹائی معاملہ میں مایاوتی کی مانگ۔ بی جے پی رکن پارلیمنٹ پر سخت قدم اٹھائیں وزیر اعلیٰ

قابل ذکر ہے کہ قنوج کے صدر تحصیل دار اروند کمار نے بی جے پی رکن پارلیمان سبرت پاٹھک پر ذات پر مبنی لفظوں کے استعمال اور اپنے حامیوں کے ساتھ گھر میں گھس کر مارپیٹ کرنے کا الزام لگایا تھا۔ اروند نے رکن پارلیمان سے خود کی جان کو خطرہ بھی بتایا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Apr 09, 2020 05:23 PM IST
  • Share this:
قنوج: تحصیل دار کی پٹائی معاملہ میں مایاوتی کی مانگ۔ بی جے پی رکن پارلیمنٹ پر سخت قدم اٹھائیں وزیر اعلیٰ
مایا وتی ۔ فائل فوٹو

لکھنؤ۔ بہوجن سماج پارٹی(بی ایس پی) سپریمو مایاوتی نے قنوج میں تحصیل دار کے ساتھ مارپیٹ کے واقعہ کو شرمناک بتاتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) رکن پالیمان کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ مایاوتی نے جمعرات کو بتایا کہ دلت سماج کے تحصیل دار کے ساتھ بی جے پی رکن پارلیمان کی جانب سے بدسلوکی اور مارپیٹ کئے جانے کا واقعہ شرمناک ہے اور افسوس کی بات ہے کہ ملزم ایم پی جیل جانے کے بجائے کھلے عام گھوم رہے ہیں۔ وزیر اعلی کو اس معاملے میں سخت قدم اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ اس طرح کے واقعات کو دوبارہ پیش آنے سے روکا جا سکے۔


بی ایس پی سپریمو نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا"اترپردیش کے ضلع قنوج میں اپنی ایمانداری سے ڈیوٹی کرر ہے ایک دلت تحصیل دار کے ساتھ ابھی حال ہی میں وہاں کے بی جے پی رکن پارلیمان نے جو مارپیٹ و بدسلوکی وغیرہ کی ہے یہ کافی شرمناک ہے لیکن دکھ کی بات یہ ہے کہ رکن پارلیمان ابھی بھی جیل میں جانے کے بجائے باہر گھوم رہے ہیں۔ جس سے پوری ریاست میں دلت ملازمین میں زبردست اشتعال ہے۔ ایسے میں وزیر اعلی کو چاہئے کہ وہ اس معاملے میں ضرور سخت قدم اٹھائیں تاکہ یہ رکن پارلیمان آگے کبھی ایسی حرکت کرنے سے باز رہیں۔



مایاوتی نے کہا کہ"پوری ریاست میں خاص کر دلت ملازمین کے ساتھ آگے ایسا کوئی بھی برتاؤ نہ ہو اس لئے بھی وزیر اعلی کو بی جے پی رکن پارلیمان کے خلاف فورا سخت کاروائی کرنی چاہئے بی ایس پی کا یہ مطالبہ ہے۔

قابل ذکر ہے کہ قنوج کے صدر تحصیل دار اروند کمار نے بی جے پی رکن پارلیمان سبرت پاٹھک پر ذات پر مبنی لفظوں کے استعمال اور اپنے حامیوں کے ساتھ گھر میں گھس کر مارپیٹ کرنے کا الزام لگایا تھا۔ اروند نے رکن پارلیمان سے خود کی جان کو خطرہ بھی بتایا ہے۔ اس معاملے میں پولیس نے رکن پارلیمان سمیت چار افراد کے خلاف نامزد اور 20 سے 25 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Apr 09, 2020 05:23 PM IST