ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

دو نابالغ بچیوں کے 8 ماہ کے حاملہ اور ایچ آئی وی پازیٹو ہونےکی خبر نے اڑائے ہوش، انجان رہا شیلٹر ہوم، اٹھ رہے سوال

جانچ کے دوران ان کے محکمے کی ڈاکٹر کو دو لڑکیوں کے پھولے ہوئے پیٹ کو دیکھ کر کچھ شک تو انہوں نے ان دونوں کی کی اور جانچ کرنے کو کہا‌۔ اس جانچ میں دونوں ہی لڑکیاں حاملہ پائی گئیں ساتھ ہی یہ بھی پتہ چلا کہ دونوں کے پیٹ میں آٹھ مہینے کا بچہ ہے۔ یہ جانکاری سامنے آتے ہی شیلٹر ہوم میں ہنگامہ مچ گیا۔

  • Share this:
دو نابالغ بچیوں کے 8 ماہ کے حاملہ اور ایچ آئی وی پازیٹو ہونےکی خبر نے اڑائے ہوش، انجان رہا شیلٹر ہوم، اٹھ رہے سوال
علامتی تصویر

کانپور۔ کورونا وائرس (COVID-19) کے پھیلاؤ کی خبروں کے درمیان  کان پور کے سوپور نگر میں اسٹیٹ چائلڈ پروٹیکشن ہوم (State child protection home) کی دو نابالغ بچیوں کے حاملہ پائے جانے اور ان میں سے ایک HIV پازیٹو ہونے کے واقعے سے ایک مرتبہ پھر شیلٹر ہوم پر سوال اٹھ رہے ہیں۔  گزشتہ سال بہار کے مظفر پور میں شیلٹر ہوم (Muzaffarpur Shelter Home)  میں نابالغ بچوں کے جنسی استحصال کا کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ کانپور کے اس واقعے کو بھی مظفرپور سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔ خاص کر اس بات پر سوال اٹھنا لازمی ہے کہ آٹھ مہینے تک شیلٹر ہوم میں رہ ر ہی ان دو بچیوں کے حاملہ ہونے کی جانکاری وہاں کے انتظامیہ کو کیسے نہیں ہو پائی۔ یہی نہیں ان دونوں بچیوں میں سے ایک  کے ایچ آئی وی HIV سے متاثر ہونے سے معاملہ اور سنگین ہوتا نظر آ رہا ہے۔ آپ کو بتا دیں کہ دوسری بچی میں ہیپاٹائٹس سی کی علامات پائی گئیں ہیں۔ فی الحال دونوں بچے کو شہر کے زچہ بچہ اسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے۔


کانپور کے سو اروپ نگر شیلٹر ہوم میں میں 3 دن پہلے 33 لڑکیوں میں کورونا وائرس کی علامات سامنے آئی تھیں۔ اس کے بعد مندھنا کے راما اسپتال میں سبھی کے سیمپل کی جانچ کی گئی۔ محکمہ صحت کی جانچ میں سبھی 33 بچیاں کورونا پازیٹو پائی‌گٔیں۔ جانچ کے دوران ان کے محکمے کی ڈاکٹر کو دو لڑکیوں کے پھولے ہوئے پیٹ کو دیکھ کر کچھ شک تو انہوں نے ان دونوں کی کی اور جانچ کرنے کو کہا‌۔ اس جانچ میں دونوں ہی لڑکیاں حاملہ پائی گئیں ساتھ ہی یہ بھی پتہ چلا کہ دونوں کے پیٹ میں آٹھ مہینے کا بچہ ہے۔ یہ جانکاری سامنے آتے ہی شیلٹر ہوم میں ہنگامہ مچ گیا۔ آنا۔فانا میں دونوں کو ہیلٹ کے زچہ بچہ اسپتال میں بنے کورونا وارڈ میں شفٹ کر دیا گیا۔ ڈاکٹر جانچ کے دوران ہی ایک بچی میں ایچ آئی وی تو دوسری میں ہیپیٹائٹس کی علامات پائی گٔیں ۔


شیلٹر ہوم کی دو بچیوں کے حاملہ ہونے کا معاملہ سامنے آنے کے بعد جب معاملے کی جانچ شروع ہوئی تو پہلے بتایا گیا کہ دونوں لڑکیاں بہا جھارکھنڈ کی ہیں۔ لیکن بعد میں شرک کی جانب سے صفائی دی گئی کہ یہ دونوں اترپردیش کے مظفر نگر کے کانپور سے لائی گئی تھیں۔ میوزیم کی پڑتال میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اسی سال دونوں کو کام پر لایا گیا ہے لیکن یہ حاملہ کیسے ہوئیں اس کی تفصیل کی جانکاری نہیں دی گئی۔


شیلٹر ہوم کی بچیوں کے حاملہ ہونے کے معاملے میں ایک طرف جہاں شیلٹر ہوم انتظامیہ پر سوال اٹھ رہے ہیں وہی کانپور کے سی ای او اشوک کمار کا بیان بھی غور کرنے کے لائق ہے۔ سی ایم او نے معاملے میں کہا کہ یہ محکمہ ان کا نہیں ہے اس لئے دونوں لڑکیاں حاملہ کیسے ہوئیں اس کی جانکاری انہیں نہیں ہے۔ وہ دونوں حاملہ ہیں یا ایچ آئی وی پازیٹیو اس کی جانکاری اسپتال انتظامیہ سے مل سکتی ہے۔ وہی ایک سوال شیلٹر ہوم انتظامیہ کو لے کر بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا چلڈرن میں رہنے والی بچیوں کی باقاعدہ نہیں ہوتی ہے۔ کیونکہ اگر جانچ ہوتی تو دونوں بچیوں کے حاملہ ہونے کا پہلے ہی پتہ چل جاتا۔
First published: Jun 21, 2020 10:20 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading