உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Karnataka Hijab Row: کانگریس MLA نے اپنے بیان پر مانگی معافی، جانئے کیا ہے معاملہ

    کرناٹک میں حجاب تنازع مزید طول پکڑتا جارہا ہے ۔ علامتی تصویر ۔

    کرناٹک میں حجاب تنازع مزید طول پکڑتا جارہا ہے ۔ علامتی تصویر ۔

    Hijab Row : کرناٹک میں کانگریس کے ممبر اسمبلی ضمیر احمد خان نے پیر کے روز اپنے اس بیان پر معافی مانگی لی ، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہندوستان میں آبروریزی کے معاملات کی ایک بڑی تعداد درج ہے ، کیونکہ یہاں خواتین حجاب نہیں پہنتی ہیں ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : کرناٹک میں کانگریس کے ممبر اسمبلی ضمیر احمد خان نے پیر کے روز اپنے اس بیان پر معافی مانگی لی ، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہندوستان میں آبروریزی کے معاملات کی ایک بڑی تعداد درج ہے ، کیونکہ یہاں خواتین حجاب نہیں پہنتی ہیں ۔ ضمیر احمد نے کہا تھا کہ لڑکیاں جب بڑی ہوجاتی ہیں ، تو انہیں اپنی خوبصورتی کو چھپانے کیلئے اپنے چہرے کو گھونگھٹ سے ڈھک لینا چاہئے ، مجھے لگتا ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ آبروریزی کے معاملات ہندوستان میں ہیں ، کیا وجہ ہے ؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنا چہرہ نہیں ڈھکتے نہیں ۔ حجاب پہننا لازمی نہیں ہے اور یہ سالوں سے چلا آرہا ہے ۔

      پیر کو ٹویٹس کی ایک سیریز میں ضمیر احمد خان نے کہا کہ میں اپنے ملک میں خواتین پر بڑھتے ہوئے مظالم اور عصمت دری کو دیکھ کر بے چین اور خوف زدہ ہو جاتا ہوں، ہمارے معاشرے کی اس حالت کی وجہ سے میں نے کہا تھا کہ کم از کم برقع یا حجاب کے ساتھ ہم عصمت دری کو روکنے کے قابل ہو سکتے ہیں ۔ اس کا مقصد کسی کو تکلیف دینا یا اس کی بے عزتی کرنا نہیں تھا۔ اگر کسی کو تکلیف پہنچی ہو تو مجھے افسوس ہے۔


      کرناٹک میں 16 فروری سے کھلیں گے پری یونیورسٹی اور ڈگری کالج

      دریں اثنا کرناٹک میں ایک مرتبہ پھر پری یونیورسٹی اور ڈگری کالج کھلنے جارہے ہیں ۔ پیر کو ریاستی وزیر تعلیم بی سی ناگیش نے کہا کہ ریاست میں پری یونیورسٹی اور ڈگری کالج 16 فروری سے کھلیں گے۔ اس سے قبل ریاست میں حجاب تنازع کی وجہ سے کالج کو بند کر دیا گیا تھا۔

      خیال رہے کہ تین دن پہلے کرناٹک حکومت نے ڈگری اور ڈپلومہ کالجوں کو بند رکھنے کی مدت 16 فروری تک بڑھا دی تھی۔ حکومت نے اپنے سرکلر میں کہا تھا کہ یہ فیصلہ ریاست میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے احتیاطی اقدام کے طور پر کیا گیا ہے۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: