உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کاسگنج: الطاف مبینہ خود کشی معاملے میں یوگی سرکار کی مشکلیں بڑھیں، قومی اقلیتی کمیشن نے جاری کیا نوٹس

    اس پورے معاملے پر 15 دن کے اندر جواب داخل کرنے کو کہا گیا ہے۔

    اس پورے معاملے پر 15 دن کے اندر جواب داخل کرنے کو کہا گیا ہے۔

    اس پورے معاملے پر 15 دن کے اندر جواب داخل کرنے کو کہا گیا ہے۔ اقبال سنگھ نے کہا خود کاس گنج پولیس کی جانب سے بھی کئی پولیس اہلکاروں کو معطل کیا گیا ہے۔حالانکہ کمیشن کے چیئرمین نے اس بات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا کہ جس طرح سے پولیس کے ذریعے بتایا گیا کہ دو فٹ کے اونچائی پر لگی پانی  کی ٹوٹی سے سے پانچ فٹ کے الطاف نے خودکشی کرلی۔

    • Share this:
    اتر پردیش کے کا س گنج میں پولیس کسٹڈی میں ایک 21 سالہ الطاف نامی نوجوان کی موت کے معاملے کو لے کر حکومت اترپردیش کی مشکلوں میں اضافہ ہونے والا ہے کیونکہ جاری تنازعہ کے درمیان قومی اقلیتی کمیشن نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے اہم قدم اٹھایا ہے۔ کمیشن کی جانب سے سوموٹو ایکشن لیتے ہوئے اتر پردیش حکومت کے ڈی جی جی پولیس اور چیف سکریٹری کو نوٹس جاری کیا گیا ہے۔اور اس پورے معاملے میں میں دو ہفتوں کے اندر تفصیلی رپورٹ طلب کی گئی ہے۔ قومی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین اقبال سنگھ لال پورا نے بتایا کہ گذشتہ روز ہی کمیشن کی جانب سے از خود نوٹس لیتے ہوئے نوٹس جاری کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس پورے معاملے پر 15 دن کے اندر جواب داخل کرنے کو کہا گیا ہے۔ اقبال سنگھ نے کہا خود کاس گنج پولیس کی جانب سے بھی کئی پولیس اہلکاروں کو معطل کیا گیا ہے۔حالانکہ کمیشن کے چیئرمین نے اس بات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا کہ جس طرح سے پولیس کے ذریعے بتایا گیا کہ دو فٹ کے اونچائی پر لگی پانی کی ٹوٹی سے سے پانچ فٹ کے الطاف نے خودکشی کرلی۔ اقبال سنگھ نے کہا ہم نے رپورٹ طلب کی ہے رپورٹ دیکھنے کے بعد کوئی فیصلہ لیا جائے گا اور اگر ضرورت ہوئی تو موقع پر جا کر ہماری ٹیم اس معاملے کی جانچ کرے گی۔
    غور طلب ہے کہ حال ہی میں ریاست اترپردیش کے ضلع کاسگنج میں ایک 21 سالہ مسلم نوجوان کی پولیس کسٹڈی میں موت ہو گئی تھی جس میں کہا جا رہا تھا کہ ایک دو فٹ اونچی ٹوٹی سے اس نوجوان نے پھانسی لگا کر خودکشی کر لی۔ معاملہ سامنے آنے کے بعد یہ بحث کا موضوع بنا ہوا ہے اور پولیس پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ کمیشن کے چیئرمین نے مزید بتایا کہ انہوں نے تری پورہ میں مسلمانوں کے خلاف ہوئے تشدد پر بھی نوٹس جاری کیا ہوا ہے اور آئندہ ہفتے وہ خود تری پورہ کا دورا کرکے اپنی کارروائی مکمل کریں گے۔ اس سے قبل قومی اقلیتی کمیشن نے تریپورہ میں اقلیتی برادری کے مذہبی مقامات ان کے مکانات اور دکانوں پر حملے کے معاملے میں ریاستی حکومت کو نوٹس بھیج کر جواب طلب کیا تھا۔قومی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین اقبال سنگھ لال پورہ نے کہا کہ تریپورہ میں اقلیتی برادری کے مذہبی مقامات اور دکانوں میں توڑ پھوڑ کے واقعہ کا از خود نوٹس لیتے ہوئے ریاست کے چیف سکریٹری سے جواب طلب کیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ انھیں اخبار کے ذریعے معلوم ہوا کہ مبینہ طور پر وشو ہندو پریشد کی ریلی کے دوران شمالی تریپورہ کے پانی ساگر سب ڈویژن میں اقلیتوں کے ایک مذہبی مقام، تین مکانوں اور کچھ دکانوں پر حملہ کیا گیا تھا۔ اس معاملے میں ریاستی حکومت کو نوٹس بھیج کر حملہ آوروں کے خلاف کی گئی کارروائی کی رپورٹ طلب کی گئی ہے۔


    اس کے علاوہ اس معاملے میں کتنے لوگوں کو گرفتار کیا گیا، کس سیکشن کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کیے گئے، اس حوالے سے بھی رپورٹ طلب کی گئی ہے
    Published by:Sana Naeem
    First published: