உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کاس گنج تشدد: پولیس کا دعویٰ، گولیاں چلا کر ہمیں مارنے کی کوشش کی گئی

    کاس گنج میں تعینات پولیس اہلکار

    کاس گنج میں تعینات پولیس اہلکار

    اترپردیش کے کاس گنج میں 26 جنوری کو بھڑکے فرقہ وارانہ تشدد کے معاملہ میں پانچ ایف آئی آر درج کی گئی ہیں ۔ تین ایف آیف آئی آر پولیس کے ذریعہ جبکہ ایک ایف آئی آر مہلوک چندن کے والد اور ایک ایف آئی آر تشدد میں زخمی ناصر کے اہل خانہ کی جانب سے درج کرائی گئی ہے ۔

    • Share this:
      کاس گنج : اترپردیش کے کاس گنج میں 26 جنوری کو بھڑکے فرقہ وارانہ تشدد کے  معاملہ میں پانچ ایف آئی آر درج کی گئی ہیں ۔ تین ایف آیف آئی آر پولیس کے ذریعہ جبکہ ایک ایف آئی آر مہلوک چندن کے والد اور ایک ایف آئی آر تشدد میں زخمی ناصر کے اہل خانہ کی جانب سے درج کرائی گئی ہے ۔ پولیس نے اپنی ایف آئی آر میں دعوی کیا ہے کہ ہندوں اور مسلمانوں کی بھیڑ نے ایک دوسرے پر پتھراو کیا اور دونوں فرقوں کے لوگوں نے گولیاں بھی چلائیں ۔

      پولیس کی ایف آئی آر میں مزید دعوی کیا گیا ہے کہ مشتعل بھیڑ نے ان پولیس اہلکاروں کو بھی مارنے کی کوشش کی ، جنہوں نے اس تشدد کے دوران مداخلت کی ۔ کاس گنج تشدد کے سلسلہ میں درج ایف آئی آر کی کاپی نیوز 18 کے پاس موجود ہے ۔

      مقامی ایس ایچ او نے ایف آئی آر میں لکھا ہے کہ 26 جنوری کو جب تشدد کے دوران پولیس اہلکار جائے واقعہ پر پہنچے تو آس پاس کے لوگوں نے ان پر گولیاں چلائیں ۔ ایف آئی آر میں لکھا گیا ہے کہ ایک فرقہ کے لوگوں نے الزام لگایا ہے کہ دوسرے فرقہ کے لوگوں نے ترنگا ریلی کے دوران رخنہ ڈالنے کی بھی کوشش کی ۔ پولیس نے دونوں فریقوں کے غصہ کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی ، لیکن کوئی بھی سننے کیلئے تیار نہیں تھا ۔ دونوں فرقوں نے ایک دوسرے پر پتھراو شروع کردیا ۔ ہماری طرف بھی پتھر پھینکے گئے اور ہم پر گولیاں چلا کر ہمیں جان سے مارنے کی بھی کوشش کی گئی ۔

      ایف آئی آر میں مزید لکھا ہے کہ لوگوں نے مذہبی مقامات پر بھی آتش زنی کی ، تاکہ معاملہ کو فرقہ وارانہ رنگ دیا جاسکے۔ دو مساجد میں آگ لگادی گئی۔

      ناصر جس کے بیٹے کے پاوں میں لگی تھی ، اس نے اپنی ایف آئی آر میں لکھا ہے کہ مشتعل بھیڑ میں سے کسی نے میرے لڑکے پر گولیاں چلادیں ۔ ایک دیگر ایف آئی آر میں ایس ایچ او نے ذکر کیا ہے کہ کیسے تیس سے چالیس لوگوں کی مشتعل بھیڑ نے دکانوں میں آگ لگادی اور پھر فرقہ وارانہ تشدد شروع ہوگیا۔ جبکہ مہلوک چندن ک والد نے اپنی ایف آئی آر میں الزام لگایا ہے کہ ان کا بیٹا ترنگا مارچ نکال رہا تھا اس وقت کچھ مسلمانوں نے انہیں روک دیا ۔ اس کو مارنے کیلئے پہلے سے ہی منصوبہ تیار کیا گیا تھا۔
      First published: