உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کشمیری پنڈتوں نے دی لکھنئو کو ایک الگ پہچان ، لکھنئو کی فضا میں کشمیریت کا احساس

    کشمیری پنڈتوں نے دی لکھنئو کو ایک الگ پہچان ، لکھنئو کی فضا میں کشمیریت کا احساس

    کشمیری پنڈتوں نے دی لکھنئو کو ایک الگ پہچان ، لکھنئو کی فضا میں کشمیریت کا احساس

    لکھنئو اپنی تہذیب و ثقافت اور لطافت و نزاکت کے کئے پوری دنیا میں مشہور ہے لیکن کیا لکھنئو کی یہ شناخت صرف شاہانِ اودھ یا نوابین اودھ کی بدولت قائم ہوئی ہے یا اس کے پس منظر میں کہیں کشمیر اور کشمیریت بھی سانس لے رہی ہے ؟

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Uttar Pradesh | Lucknow | Lucknow
    • Share this:
    لکھنو: کہا جاتا ہے کہ لکھنئو کا تمدن یہاں کی زبان، ادب و القاب ،لطافت و نزاکت ، تہذیب و ثقافت،  انداز و اطوار ، معیار و وقار صرف نوابین اددھ یا لکھنئو کے ہی باشندوں کے مرہون منت نہیں بلکہ اس میں کشمیری پنڈتوں اور کشمیری مسلمانوں کا بھی غیر معمولی تعاون ہے۔ پنڈت برج نرائن چکبست، پنڈت دیا شنکر نسیم ، پنڈت آنند نرائن ملا اور پنڈت  رتن ناتھ سرشار سمیت ایسے بہت سے نام ہیں، جنہوں نے لکھنئو کو ادب   سیاست اعر کے حوالے سے ممتاز شناخت عطا کی ۔ اس لئے کہا یہ بھی جاتا ہے کہ لکھنئو کی ادبی تاریخ اور تہذیبی وراثت کی داستان بغیر کشمیری پنڈتوں کی شمولیت کے مکمل ہو ہی نہیں سکتی ہے ۔ پنڈت رتن ناتھ سرشار نے فسانہ آزاد میں جس انداز سے لکھنئو کی تہذیب ، یہاں کے تمدن اور عوامل ، مذہبی ہم آہنگی ، رواداری ، ایکتا بھائی چارہ اتفاق و اتحاد اور شب و روز کے مشاغل کو پیش کیا ہے اس سے یہ اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ لکھنئو کی علمی ادبی شعری اور شہری فضا کشمیریت کے احساس کے بغیر ادھوری ہے نامکمل ہے ۔

     

    یہ بھی پڑھئے : بہار میں پانی کے اندر سے ایک مسجد برآمد، علاقہ کے مسلمانوں میں خوشی اور تجسس کے جذبات


    تاریخ گواہی دیتی ہے کہ جب 1774 میں نواب آصف الدولہ نے فیض آباد کو چھوڑ کر لکھنئو کو اودھ کی راجدھانی بنایا تو بیشتر کشمیری خاندان بھی فیض آباد کو خیر باد کہہ کر ان کے ساتھ ہمیشہ کے لئے لکھنئو چلے آئے اور پھر یہیں کے ہوگئے ۔ نواب آصف الدولہ نے کشمیری پنڈوتوں کی رہائش کے لئے باقاعدہ زمینیں عطا کیں بہترین مندر اور مکان بنوائے اور ساتھ ہی کفالت کے لیے جاگیریں بھی عطا کیں، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لکھنئو میں ایک نہایت خوشگوار اور معنی خیز ماحول پروان چڑھا جس سے شہر کی فضا میں کشمیریت کی بو با س شامل ہو گئی ۔

     

    یہ بھی پڑھئے: مقامی مساجد میں جمعہ کی نماز ادا کریں، حیدرآباد میں علماء اور تنظمیوں کے ذمہ داران کی اپیل


    تصویر کا دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ کشمیر سے آنے والے لوگوں میں ایسے لوگ بھی شامل تھے، جو صاحب علم ہونے کے ساتھ ساتھ صاحب ثروت بھی تھے اور مذہبی امور کی پاسداری اور اپنی رسم و روایات  اور مذہبی امور کے لئے بہت سنجیدہ تھے ، نوابین اوردھ نے بھی ان کے علم و ہنر اور جذبوں کی قدر کرتے ہوئے ان کو ہر طرح کی مراعات عطا کیں ۔ جب کشمیری مسلمان یا کشمیری پنڈت لکھنئو آئے انہوں نے یہاں کی تعمیر و تشکیل میں بہترین کردار ادا کیا۔

    کشمیری پنڈت کشمیری محلے میں آباد ہوگئے جبکہ کشمیری مسلمان شاہ گنج میں بس گئے،  کشمیری محلے کی منوہر نواس حویلی ، کشمیری اسکول اور   شرگاہ صاحب کی کوٹھی کے نام سے موجود عمارت آج بھی اپنے روشن ماضی کی داستان بہ زبانِ خود بیان کررہی ہے۔ راجا جی پورم کا کشمیری باغ اور کشمیری پنڈتوں کے ذریعے بنائے گیے شوالے لکھنئو کی اس قدیم اور روشن تہذیب کی گواہی آج بھی پیش کررہے ہیں ۔ جن پر اس شہر کو ہمیشہ ناز رہا ہے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: