ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جیش محمد کے پلوامہ دہشت گردانہ حملےکی رازکھولیں گی یہ دواہم کڑیاں

آرزو بشیرنے 2017 میں پولیس کے پاس شکایت درج کرائی تھی، جس میں اس نے کہا تھا کہ جیش محمد نے فوج کے قافلے پرحملہ کرنے کے لئے اس سے رابطہ کیا تھا۔

  • Share this:
جیش محمد کے پلوامہ دہشت گردانہ حملےکی رازکھولیں گی یہ دواہم کڑیاں
پلوامہ میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کو حل کرنے میں مصروف ہیں سیکورٹی ایجنسیاں۔

پلوامہ میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کی کڑی کوسلجھانے میں جانچ ایجنسیاں مصروف ہوگئی ہیں، اس میں لال (سرخ) رنگ کی ایکوکاراورآرزوبشیرنامی ایک نوجوان یہ دونوں اہم کڑی ہوسکتے ہیں۔ دراصل ذرائع نے سی این این - نیوز 18 کو بتایا 'حادثہ سے پہلے بس نمبر4 اور2 میں بیٹھے جوانوں نے حملہ آورعادل ڈارکولال رنگ کی ایکوکارمیں تیسرے نمبرکی بس کے پاس آتے ہوئے دیکھا تھا۔ وہ کارکومسلسل دائیں اوربائیں موڑرہا تھا۔ تیسرے نمبرکی بس کے سیکورٹی اہلکارمسلسل اسے دورجانے کوکہہ رہے تھے، لیکن تقریباً دومنٹ تک بس کے ساتھ چلنے کے بعد کارکوعادل ڈارنے بس کوٹکرماردی'۔


سی آرپی ایف کے جوانوں نے نیوز18 کوبتایا کہ لال رنگ کی ایکوکارنے جموں سے ہی قافلےکا پیچھا کرنا شروع کردیا تھا۔ وہ سب سے پیچھے والی بس میں کارکوٹکرمارنا چاہتا تھا، لیکن وہ جب ایسا نہیں ہوپایا تواس نے تیسرے نمبرکی بس کوٹکرماردی۔ اس حادثہ میں 40 سی آرپی ایف جوانوں کی موت ہوگئی۔


ایک پولیس افسرنے بتایا کہ فورنسک ٹیم اوراین آئی اے کوجائے حادثہ سے ایک ایکوکارکا ایک بمپرملا جو کہ چشم دیدوں کی بتائی ہوئی بات سے میل کھاتی ہے۔ جانچ افسراس بات کا بھی پتہ لگانے میں مصروف ہیں کہ ڈارکودھماکہ خیزاشیا کہاں سے ملا؟ اس سوال کا جواب ممکنہ طورپرآرزوبشیرکے پاس ہے، جس سے جیش محمد نے اسی کام کے لئے رابطہ کیا تھا، جسے اب عادل ڈارنے انجام دیا۔


آرزو بشیرنے 2017 میں پولیس کے پاس شکایت درج کرائی تھی، جس میں اس نے کہا تھا کہ جیش محمد نے فوج کے قافلے پرحملہ کرنے کے لئے اس سے رابطہ کیا تھا۔ ایک افسرنے بتایا کہ جیش کے جس آدمی نے آرزوسے رابطہ کیا تھا اورجس نے ڈارکودھماکہ خیزاشیا فراہم کرایا، اس میں اگرکوئی تعلق نکلتا ہے تواس سے پلوامہ حملے کے کئی رازکھل سکتے ہیں۔

اسی سال 26 جنوری کومارے گئے مفتی عبداللہ کے تاربھی اس حادثہ سے جڑے ہوئے نظرآتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سری نگرکے باہری علاقے میں کھنمومیں مارا گیا عبداللہ آئی ای ڈی بنانے میں کافی ماہرتھا۔  جہاں وہ رہتا تھا، انکاونٹرکے بعد وہاں کافی مقدارمیں آئی ای ڈی برآمد ہوئی تھی۔ نیوز18 کوایک افسرنےبتایا 'ہم لوگ اس بات کا پتہ لگانے کی کوشش کررہے ہیں کہ جودھماکہ خیزاشیا پلوامہ حادثے میں استعمال کی گئی، کیا وہ عبداللہ کے پاس سے برآمد کئے گئے آئی ای ڈی سے ملتا جلتا ہےیا نہیں؟ حالانکہ اس معاملے میں فورنسک رپورٹ کا انتظارہے۔
First published: Feb 17, 2019 12:07 PM IST