ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

کٹھوعہ عصمت دری و قتل معاملہ: استغاثہ نے ملزمان کو پٹھان کوٹ منتقل کرنے کی درخواست واپس لے لی

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج پٹھان کورٹ ڈاکٹر تجویندر سنگھ نے پیر کے روز یہاں کٹھوعہ عصمت دری و قتل کیس کے ملزمان کی کٹھوعہ سے پٹھان کوٹ جیل منتقلی کے خلاف دفاعی وکلاء کی طرف سے دائر کئے گئے اعتراضات کو جائز قرار دیا جس کے بعد استغاثہ نے ملزمان کی منتقلی سے متعلق اپنی عرضی واپس لے لی۔

  • UNI
  • Last Updated: Jun 04, 2018 08:17 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
کٹھوعہ عصمت دری و قتل معاملہ: استغاثہ نے ملزمان کو پٹھان کوٹ منتقل کرنے کی درخواست واپس لے لی
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج پٹھان کورٹ ڈاکٹر تجویندر سنگھ نے پیر کے روز یہاں کٹھوعہ عصمت دری و قتل کیس کے ملزمان کی کٹھوعہ سے پٹھان کوٹ جیل منتقلی کے خلاف دفاعی وکلاء کی طرف سے دائر کئے گئے اعتراضات کو جائز قرار دیا جس کے بعد استغاثہ نے ملزمان کی منتقلی سے متعلق اپنی عرضی واپس لے لی۔

پٹھان کوٹ: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج پٹھان کورٹ ڈاکٹر تجویندر سنگھ نے پیر کے روز یہاں کٹھوعہ عصمت دری و قتل کیس کے ملزمان کی کٹھوعہ سے پٹھان کوٹ جیل منتقلی کے خلاف دفاعی وکلاء کی طرف سے دائر کئے گئے اعتراضات کو جائز قرار دیا، جس کے بعد استغاثہ نے ملزمان کی منتقلی سے متعلق اپنی عرضی واپس لے لی۔ یہ اطلاع ملزمان کے وکلاء نے عدالتی کمپلیکس کے باہر نامہ نگاروں کو دی۔

انہوں نے کہا کہ کرائم برانچ کی طرف سے ملزمان کو وعدے کے مطابق چالان کی ترجمہ شدہ کاپیاں فراہم کی گئی ہیں۔ ملزمان کے وکلاء نے کہا کہ جج نے متاثرہ بچی کے والد محمد یوسف کو اپنا وکیل کرنے کی اجازت دی ہے اور وہ استغاثہ کے وکلاء کو کیس میں معاونت فراہم کرے گا۔

انہوں نے کیس میں جموں وکشمیر حکومت کی نوٹیفکیشن کے بغیر حاضر ہونے والے پنجاب ڈسٹرک اٹھارنی جے کے چوپڑا پر کہا ہے کہ انہیں جج موصوف نے دو دن کا وقت دیا ہے۔ انہوں نے کہا ’جج صاحب نے پنجاب ڈسٹرک اٹھارنی کو دو دن کا وقت دیا ہے۔ اگر وہ جموں وکشمیر حکومت کی نوٹیفکیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تو وہ کیس میں حاضر ہونے کا جواز رکھتے ہیں۔ نہیں تو انہیں کوئی حق حاصل نہیں ہے‘۔


اس دوران مقدمے کی سماعت پیر کو مسلسل چوتھے دن بھی جاری رہی۔ ریاستی حکومت کے نامزد کردہ سپیشل پبلک پراسکیوٹرایڈوکٹ ایس اے بسرا نے 31 مئی کو عدالت میں ایک عرضی دائر کی تھی جس میں انہوں نے ملزمان کو عدالتی تحویل پر پٹھان کوٹ منتقل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

ملزمان کے وکلاء نے اس پر یہ کہتے ہوئے اعتراض کیا تھا کہ سپریم کورٹ نے صرف کیس کو پٹھان کوٹ منتقل کیا ہے، ملزمان کو نہیں۔ سپریم کورٹ نے 7 مئی کو کٹھوعہ کیس کی جانچ سی بی آئی سے کرانے سے انکار کرتے ہوئے کیس کی سماعت کٹھوعہ سے پٹھان کوٹ کی عدالت میں منتقل کرنے کی ہدایت دی تھی۔ جموں وکشمیر حکومت کی طرف سے گرداس پور سے تعلق رکھنے والے ایک سینئر وکیل ایس اے بسرا کو اسپیشل پبلک پراسکیوٹر مقرر کیا گیا ہے۔ انہیں جموں سے تعلق رکھنے والے مزید دو پبلک پراسیکیوٹرسبوپندر سنگھ اور ہرمندر سنگھ کی معاونت حاصل ہے۔
ملزمان کے وکلاء نے عدالتی کمپلیکس کے باہر میڈیا کو عدالتی کاروائی کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا ’عدالتی کمرے کیا ہوا، وہ ہم آپ کے ساتھ شیئر نہیں کرسکتے۔ لیکن عدالت نے آج کچھ فیصلے صادر کئے۔ ملزمان کو کٹھوعہ جیل سے پٹھان کوٹ جیل منتقل کرنے کی عرضی دائر کی گئی تھی۔ اس کو آج عدالت نے مسترد کردیا جس کے بعد استغاثہ نے اپنی درخواست واپس لے لی۔ ہم نے منتقلی کو لیکر اپنے تفصیلی اعتراضات جمع کئے تھے‘۔

ایڈوکیٹ اے کے ساونی نے کہا ’میں نے اعتراضات میں کہا تھا کہ جموں وکشمیر کا اپنا پریزن ایکٹ ہے۔ پنجاب حکومت ان کا خرچہ کیوں برداشت کرے گی۔ ہم نے کہا تھا یہ زیادہ سے زیادہ بیس سے پچیس کلو میٹر کا فیصلہ ہے۔ ملزمان کو ہر روز ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے میں کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا۔ میرے اعتراضات پر آج پبلک پراسکیوٹر نے اپنی درخواست واپس لے لی۔ ملزمان کٹھوعہ جیل میں ہی مقید رہیں گے‘۔
یہ پوچھے جانے پر کہ منتقلی سے متعلق عرضی کو مسترد کیا گیا یا استغاثہ کی طرف سے واپس لیا گیا۔ انہوں نے کہا ’جج صاحب نے جب کہا کہ ہم منتقل نہیں کریں گے تو استغاثہ نے اپنی درخواست واپس لے لی‘۔
ملزمان کے وکلاء نے کہا کہ متاثرہ بچی کے والد کو اپنا وکیل کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا ’ محمد یوسف صاحب نے اپنا وکیل کرنے کی عرضی دی تھی۔ اس پر عدالت نے کہا کہ ہاں وہ اپنا وکیل کرسکتا ہے اور وہ وکیل استغاثہ کو معاونت فراہم کرے گا‘۔ ملزمان کے وکلاء نے کیس میں جموں وکشمیر حکومت کی نوٹیفکیشن کے بغیر حاضر ہونے والے پنجاب ڈسٹرک اٹھارنی جے کے چوپڑا پر کہا ہے کہ انہیں جج موصوف نے دو دن کا وقت دیا ہے۔
انہوں نے کہا ’یہاں پنجاب ڈسٹرک اٹھارنی عدالت میں پیش ہورہے تھے۔ یہ ان کا کیس نہیں تھا۔ ہم نے اس پر اعتراض کیا تھا۔ عدالت ضرور پنجاب کی استعمال ہورہی ہے لیکن مقدمہ جموں وکشمیر کی سرکار اور ہمارے درمیان ہے۔
ریاستی حکومت نے گرداس پور سے تعلق رکھنے والے ایک وکیل کو اپنا سپیشل پراسکیوٹر تعینات کیا ہے۔ یہ تعیناتی سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل میں لائی گئی ہے۔


پراسکیوٹر کی تعیناتی کے بعد ڈسٹرک اٹھارنی کا اس میں کوئی کردار نہیں ہے۔ اگر ڈسٹرک اٹھانی کوئی کردار ادا کرنا چاہتے ہیں تو انہیں جموں وکشمیر حکومت سے نوٹیفکیشن حاصل کرنی ہے۔ جج صاحب نے ڈسٹرک اٹھانی کو دو دن دیے ہیں۔ ان سے کہا گیا ہے کہ اگر وہ دو دن کے اندر کچھ پیش کرسکتے ہیں تو ٹھیک ہے نہیں تو ہم آپ کو عدالت میں حاضر رہنے کی اجازت نہیں دیں گے‘۔
انہوں نے کہا ’اِن کیمرہ سماعت میں استغاثہ کے وکلاء یا دفاعی وکلاء ہی عدالت کمرے میں حاضر رہ سکتے ہیں۔ تیسرا کوئی نہیں۔ میں نے جج صاحب سے کہا کہ کیس جموں وکشمیر کا ہے اور عدالت آپ کی ہے۔
سیکورٹی کی وجہ سے اس کو یہاں منتقل کیا گیا ہے۔ پنجاب کا رول صرف سیکورٹی اور انفراسٹرکچر کی فراہمی تک محدود ہے۔ ہم خوش ہیں کہ ان کو صرف دو دن کا وقت دیا گیا ہے‘۔ ملزمان کے وکلاء نے کہا کہ کرائم برانچ کی طرف سے ملزمان کو وعدے کے مطابق چالان کی ترجمہ شدہ کاپیاں فراہم کی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا ’ہاں اردو سے انگریزی میں ترجمہ شدہ کاپیاں فراہم کی گئی ہیں۔ کرائم برانچ نے آج تمام ملزمان کو چالان اور بیانات کی ترجمہ شدہ کاپیاں فراہم کیں۔
جج صاحب نے کہا کہ سیکورٹی سے وابستہ افراد بھی باہر رہیں گے اور اندر کوئی نہیں آئے گا‘۔ جج ڈاکٹر تجویندر سنگھ نے 31 مئی کو کرائم برانچ سے ہدایت کی تھی کہ وہ ملزمان کو
4 جون تک ترجمہ شدہ کاپیاں دی جانی چاہیں۔

عدالتی ذرائع نے بتایا کہ کیس کی روزانہ کی بنیاد پر جاری رہنے والی سماعت کل بھی دوپہر ڈیڑھ بجے شروع ہوگی۔ نابالغ ملزم کو چھوڑ کر سبھی 7 ملزمان کو پیر کے روز پٹھان کوٹ عدالت میں پیش کیا گیا۔ ملزمان کٹھوعہ جیل سے انتہائی سیکورٹی حصار میں پٹھان کوٹ پہنچائے گئے۔ انہیں کسی سے بھی بات کرنے نہیں دیا گیا۔
نابالغ ملزم کے خلاف مقدمے کی سماعت الگ سے جیونائل جسٹس ایکٹ کے تحت ہوگی۔ مقدمے کے ملزمان میں واقعہ کے سرغنہ اور مندر کے نگران سانجی رام، اس کا بیٹا وشال، ایس پی او دیپک کھجوریہ، ایس پی او سریندر ورما، سانجی رام کا بھتیجا وشال، وشال کا دوست پرویش کمار منو، تحقیقاتی افسران تلک راج اور آنند دتا ہیں۔
خیال رہے کہ کیس کی ایک سماعت 16 اپریل کو سیشن جج کٹھوعہ سنجیو گپتا کی عدالت میں ہوئی۔ نابالغ ملزم کو چھوڑ کر جن 7 ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا، نے جج موصوف کے سامنے اپنے آپ کو بے گناہ بتاتے ہوئے نارکو ٹیسٹ (جھوٹ پکڑنے والا ٹیسٹ) کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔
تاہم متاثرہ کی فیملی کی جانب سے کیس کو چندی گڈھ منتقل کرنے کے لئے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا تھا۔ عدالت عظمیٰ نے اپنی پہلی سماعت میں کیس کی کٹھوعہ عدالت میں سماعت پر روک لگائی تھی۔


ضلع کٹھوعہ کے تحصیل ہیرانگر کے رسانہ نامی گاؤں کی رہنے والی آٹھ سالہ کمسن بچی جو کہ گجر بکروال طبقہ سے تعلق رکھتی تھی، کو 10 جنوری کو اُس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ گھوڑوں کو چرانے کے لئے نذدیکی جنگل گئی ہوئی تھی۔ اس کی لاش 17 جنوری کو ہیرا نگر میں جھاڑیوں سے برآمد کی گئی تھی۔
کرائم برانچ پولیس نے گذشتہ ہفتے واقعہ کے سبھی 8 ملزمان کے خلاف چالان عدالت میں پیش کیا۔ کرائم برانچ نے اپنی تحقیقات میں کہا ہے کہ آٹھ سالہ بچی کو رسانہ اور اس سے ملحقہ گاؤں کے کچھ افراد نے عصمت ریزی کے بعد قتل کیا۔
تحقیقات کے مطابق متاثرہ بچی کے اغوا، عصمت دری اور سفاکانہ قتل کا مقصد علاقہ میں رہائش پذیر چند گوجر بکروال کنبوں کو ڈرانا دھمکانا اور ہجرت پر مجبور کرانا تھا۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ کمسن بچی کو اغوا کرنے کے بعد ایک مقامی مندر میں قید رکھا گیاتھا جہاں اسے نشہ آور ادویات کھلائی گئیں اور قتل کرنے سے پہلے اسے مسلسل درندگی کا نشانہ بنایا گیا۔
First published: Jun 04, 2018 08:17 PM IST