ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

کٹھوعہ آبروریزی وقتل معاملہ: استغاثہ کے گواہان پربیان بدلنے کیلئے دباؤ

خانہ بدوش بچی کی اجتماعی عصت ریزی اور قتل معاملہ میں استغاثہ کے دو گواہوں کو ملزموں کے رشتہ داروں اور دیگر شر پسندوں کی جانب سے مبینہ طور دھمکیاں دی جارہی ہیں۔

  • Share this:
کٹھوعہ آبروریزی وقتل معاملہ: استغاثہ کے گواہان پربیان بدلنے کیلئے دباؤ
خانہ بدوش بچی کی اجتماعی عصت ریزی اور قتل معاملہ میں استغاثہ کے دو گواہوں کو ملزموں کے رشتہ داروں اور دیگر شر پسندوں کی جانب سے مبینہ طور دھمکیاں دی جارہی ہیں۔

جموں: کٹھوعہ آبرو ریزی وقتل مقدمہ کی ٹرائل عدالت عظمیٰ کی ہدایت کے مطابق پٹھان کوٹ ضلع عدالت میں جاری ہے۔ 353گواہان میں سے اب تک 34گواہان کی جرح ہوئی ہے۔ ضلع عدالت کی طرف سے وکلاء صفائی کو استغاثہ کے گواہان کی پیشگی عدالت اطلاع دیئے جانے کی ہدایات کے بعد اب گواہان عدم تحفظ کا شکار ہیں۔


ذرائع کے مطابق خانہ بدوش بچی کی اجتماعی عصت ریزی اور قتل معاملہ میں استغاثہ کے دو گواہوں کو ملزموں کے رشتہ داروں اور دیگر شر پسندوں کی جانب سے مبینہ طور دھمکیاں دی جارہی ہیں اور ان پر دباؤ ڈالاجارہاہے کہ وہ عدالت میں اپنے بیانات بدل ڈالیں۔


ذرائع نے بتایاکہ ان گواہان نے اس حوالہ سے ریاستی پولیس کی کرائم برانچ کے پاس تحریری شکایت بھی درج کرائی ہے جس کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے کرائم برانچ نے کٹھوعہ پولیس سے کہا ہے کہ گواہوں کو سیکورٹی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ شرپسند عناصر کے خلاف معاملہ درج کیاجائے۔ ایک سنیئر پولیس افسرنے بتایاکہ اس معاملہ میں کارروائی کی جارہی ہے۔


انہوں نے بتایاکہ کرائم برانچ سے سپریم کورٹ کی طرف سے گذشتہ ماہ گواہوں کو تحفظ فراہم کئے جانے کی ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے گواہوں کی شکایت پولیس کو بھیجی ہے جس میں دھمکانے والوں کے ناموں کا بھی خلاصہ کیاگیاہے۔ ان میں سے ایک گواہ سرکاری ملازم ہے جس نے تحقیقات کے دوران کرائم برانچ کے رو برو بیان دیاتھا۔

ذرائع کے مطابق کرائم برانچ کے خصوصی پراسیکوٹینگ افسر نے یہ معاملہ جمعہ کو ضلع عدالت کی نوٹس میں بھی لایا۔یاد رہے کہ معاملہ کی حساسیت کو مد نظر رکھتے ہوئے کرائم برانچ استغاثہ کے گواہان کی پیشگی معلومات فراہم نہیں کر رہی تھی لیکن وکلاء صفائی نے اس پر عدالت میں کئی عرضیاں دائر کیں اور کہاکہ انہیں جرح کرنے میں مشکل پیش آرہی ہے لہٰذا انہیں پیشگی اطلاع دی جانی چاہئے۔ اگر چہ سرکاری وکلاء نے عدالت کو بتایاتھاکہ کٹھوعہ اور سانبہ اضلاع میں مفاد خصوصی رکھنے والے افراد کی طرف سے ایک منصوبہ بند اور گمراہ کن مہم چلائی جارہی ہے تاکہ لوگوں کو گمراہ کیاجاسکے۔

فاضل جج کو بی جے پی ممبر اسمبلی چودھری لال سنگھ کی طرف سے 22جولائی کو ڈوگرہ سوابھیمان سنگٹھن کے نام سے ایک تنظیم تشکیل دیئے جانے کی بھی جانکاری دی گئی تھی، جس کے قیام کا مقصد رسانہ معاملہ کے ملزمان کا بچاؤاور تحقیقاتی ایجنسی کے تئیں لگوں کو بد ظن کرنا بھی ہے لیکن وکلاء صفائی کے بار بار اصرار کے بعد معزز عدالت نے کرائم برانچ کو ہدایت دی تھی کہ ان گواہوں کے بارے وکلاء صفائی کو پیشگی جانکاری دے دی جائے جنہیں کوئی خطرہ درپیش نہ ہو، لیکن اب جبکہ عدالت کی ہدایت پر نام بتائے جارہے ہیں تو گواہان جانی ومالی طور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

 
First published: Aug 10, 2018 11:59 PM IST