ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ہتک عزت کیس : ارون جیٹلی کو نہیں چاہئے اروند کیجریوال کی معافی !۔

ہتک عزت کے کئی معاملات میں پھنسے دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال ان دنوں نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے ایک کے بعد ایک لیڈروں سے معافی مانگ رہے ہیں۔

  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
ہتک عزت کیس : ارون جیٹلی کو نہیں چاہئے اروند کیجریوال کی معافی !۔
ہتک عزت کے کئی معاملات میں پھنسے دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال ان دنوں نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے ایک کے بعد ایک لیڈروں سے معافی مانگ رہے ہیں۔

نئی دہلی : ہتک عزت کے کئی معاملات میں پھنسے دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال ان دنوں نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے ایک کے بعد ایک لیڈروں سے معافی مانگ رہے ہیں۔ انہوں نے سب سے پہلے پنجاب میں اکالی دل کے لیڈر بکرم سنگھ مجیٹھیاسے تحریری معافی مانگی ۔ پھر انہوں نے مرکزی وزیر نتن گڈکری اور کانگریس لیڈر کپل سبل سے معذرت کی ۔ گڈکری اور سبل نے ان کی معافی قبول کرلی ہے ، جس کے بعد کیجریوال ہتک عزت کے دو کیسوں میں بری ہوگئے ہیں۔

اب بحث کی جارہی ہے کہ وزیر اعلی جلد ہی وزیر خزانہ ارون جیٹلی کو بھی معافی نامہ بھیجیں گے ، لیکن میڈیا رپورٹ میں بتایا جارہا ہے کہ جیٹلی کیجریوال کا معافی نامہ منظور نہیں کریں گے اور اگر ایسا ہوا تو وزیر اعلی کی مشکلیں مستقبل میں بڑھ سکتی ہیں۔ حالانکہ عام آدمی پارٹی سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ کیجریوال کے وکیل جیٹلی کے وکیلوں سے رابطے میں ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ وزیر اعلی کیجریوال اور عام آدمی پارٹی کے کچھ دیگر لیڈروں نے ڈی ڈی سی اے میں مبینہ گھوٹالہ کو لے کر مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی پر سنگین الزامات عائد کئے تھے ، جس کے بعد ارون جیٹلی نے دسمبر 2015 میں کیجریوال اور دیگر پانچ لیڈروں کے خلاف پٹیالہ ہاوس کورٹ میں ہتک عزت کا مقدمہ کرتے ہوئے 10 کروڑ روپے کا مطالبہ کیا تھا۔

عام آدمی پارٹی کی لیگل ٹیم میں کام کرنے والے ایڈووکیٹ ارشاد کا کہنا ہے کہ وزیر اعلی کیجریوال کے خلاف ملک بھر میں تقریبا 40 مقدمے درج ہیں ، ان میں سے 20 ایسے ہیں ، جن میں ابھی نوٹس بھی جاری نہیں ہوا ہے ۔ لیگل ٹیم کے مطابق فی الحال پانچ کیس دہلی ہائی میں ، پانچ کیس اترپردیش میں ، ایک کیس آسام میں ، ایک کیس بنگلورو اور دو کیس مہاراشٹر میں زیر سماعت ہیں ، جن میں انہیں پیش ہونے کا نوٹس ملا ہوا ہے ۔ 40 میں سے پانچ کیس سول بھی ہیں ۔

First published: Mar 20, 2018 08:51 PM IST