ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

کیجریوال نے ریڈیو اشتہار کے ذریعہ 'طاق اور جفت فارمولہ' کا جواز پیش کیا

نئی دہلی۔ دہلی میں طاق اور جفت نمبر پلیٹ کی گاڑیوں کو بار ی باری چلانے کی اجازت دینے سے متعلق اپنے فیصلے کو سمجھانے کے لئے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے ریڈیو پر ایک اشتہار دیا ہے، جس میں انہوں نے قومی راجدھانی خطہ کی فضائی آلودگی کم کرنے کے واسطے بالواسطہ طورپر 'طاق اور جفت نمبر فارمولہ' کا جواز پیش کیا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Dec 08, 2015 05:25 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
کیجریوال نے ریڈیو اشتہار کے ذریعہ 'طاق اور جفت فارمولہ' کا جواز پیش کیا
نئی دہلی۔ دہلی میں طاق اور جفت نمبر پلیٹ کی گاڑیوں کو بار ی باری چلانے کی اجازت دینے سے متعلق اپنے فیصلے کو سمجھانے کے لئے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے ریڈیو پر ایک اشتہار دیا ہے، جس میں انہوں نے قومی راجدھانی خطہ کی فضائی آلودگی کم کرنے کے واسطے بالواسطہ طورپر 'طاق اور جفت نمبر فارمولہ' کا جواز پیش کیا ہے۔

نئی دہلی۔ دہلی میں طاق اور جفت نمبر پلیٹ کی گاڑیوں کو بار ی باری چلانے کی اجازت دینے سے متعلق اپنے فیصلے کو سمجھانے کے لئے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے ریڈیو پر ایک اشتہار دیا ہے، جس میں انہوں نے قومی راجدھانی خطہ کی فضائی آلودگی کم کرنے کے واسطے بالواسطہ طورپر 'طاق اور جفت نمبر فارمولہ' کا جواز پیش کیا ہے۔


وزیر اعلی نے اپنے ریڈیو پیغام میں کہا کہ " دہلی میں ہم انتہائی زہریلی ہوا کی سانس لے رہے ہيں، جہاں آلودگی تشویشناک حد تک پہنچ گئی ہے۔ فضا کو آلود کرنے میں سڑکوں پر چلائی جانے والی کاروں کا اہم رول ہے"۔  انہوں نے کہا کہ " اس لئے ہمیں سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں کی تعداد کم کرنے کی ضرورت ہے"۔ انہوں نے کہا کہ عام آدمی پارٹی حکومت نے یہ فیصلہ عدالتی حکم کے پیش نظر کیا ہے جس میں قومی راجدھانی کے باشندوں کو فضائی آلودگی سے راحت دینے کے لئے فوری اقدامات کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ 


واضح رہے کہ مسٹر کیجریوال کی زیر قیادت عام آدمی پارٹی کی حکومت نے حال ہی میں طاق نمبر پلیٹ والی گاڑیوں کو پیر، بدھ اور جمعہ کے دنوں میں اور جفت نمبر پلیٹ والی گاڑیوں کو منگل، جمعرات اور ہفتہ کے دنوں میں چلنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ فیصلے کے مطابق اتوار کے دن تمام گاڑیوں کو چلانے کی اجازت ہوگی۔  دریں اثناء، عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کی آلودگی مخالف اسٹراٹیجی کو دہلی ہائي کورٹ میں چیلنج کیا گيا ہے۔


First published: Dec 08, 2015 05:25 PM IST