ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

کیرانہ معاملہ کو یوپی کا ماحول خراب کرنے کی خطرناک سازش بتانے والے آچاریہ پرمود کرشنن کو بم سے اڑانے کی دھمکی

نئی دہلی۔ کیرانہ معاملے میں یوپی حکومت کو رپورٹ سونپنے والے سنتوں نے اپنی جان کا خطرہ بتایا ہے۔

  • IBN Khabar
  • Last Updated: Jun 27, 2016 05:56 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
کیرانہ معاملہ کو یوپی کا ماحول خراب کرنے کی خطرناک سازش بتانے والے آچاریہ پرمود کرشنن کو بم سے اڑانے کی دھمکی
نئی دہلی۔ کیرانہ معاملے میں یوپی حکومت کو رپورٹ سونپنے والے سنتوں نے اپنی جان کا خطرہ بتایا ہے۔

نئی دہلی۔ کیرانہ معاملے میں یوپی حکومت کو رپورٹ سونپنے والے سنتوں نے اپنی جان کا خطرہ بتایا ہے۔ ٹیم کے رکن آچاریہ پرمود كرشنن نے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ یوگی آدتیہ ناتھ پر انگلی اٹھائی ہے۔ کالکی پیٹھادھیشور اور جانے مانے مذہبی گرو آچاریہ پرمود كرشنن نے الزام لگایا ہے کہ انہیں جان سے مارنے کی دھمکی ملی ہے اور جان سے مارنے کی دھمکی کا اشارہ بی جے پی رکن پارلیمنٹ یوگی آدتیہ ناتھ اور گری راج سنگھ کی طرف ہے۔


بقول پرمود كرشنن یہ دھمکی انہیں اس لئےملی ہے کیونکہ وہ کیرانہ سے ہندووں کی مبینہ نقل مکانی کی حقیقت جاننے گئی سنتوں کی ٹیم کا حصہ تھے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مجھے پولیس سے پتہ چلا ہے کہ جن لوگوں نے مجھے فون کر بم سے اڑانے کی دھمکی دی ہے انہیں یوگی آدتیہ ناتھ اور گری راج کشور کا تحفظ حاصل ہے۔ پولیس کو ان کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے۔


الزامات کے مطابق اس رپورٹ کے بعد سنتوں کو دھمکی بھرے فون آئے اور کہا گیا کہ کیرانہ معاملے میں جو رپورٹ انہوں نے سونپی ہے اس کا انجام بھگتنے کے لئے تیار رہیں۔ اس بارے میں آچاریہ پرمود کرشنن نے غازی آباد تھانے میں ایف آئی آر لکھوا دی ہے۔ پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر تحقیقات شروع کر دی ہے۔


بتا دیں کہ کیرانہ سے نقل مکانی کا سچ جاننے کے لئے یوپی حکومت نے 5 سنتوں کی ٹیم بنائی تھی، اس میں آچاریہ پرمود كرشنن، ہندو مہاسبھا کے سوامی چكرپانی، سوامی کلیان دیو، نايارن گری اور سابق جج سوامی چنميانند شامل تھے۔ اس کے بعد سنتوں کی ٹیم نے 19 جون کو کیرانہ جا کر لوگوں سے بات کی اور پھر اپنی رپورٹ وزیر اعلی اکھلیش یادو اور گورنر رام نائیک کو سونپی تھی۔

ذرائع کے مطابق، سنتوں کی اس ٹیم نے کیرانہ معاملے پر رپورٹ کو خفیہ قرار دیتے ہوئے اس معاملے کو یوپی کا ماحول خراب کرنے کی خطرناک سازش قرار دیا تھا۔ ٹیم نے کہا کہ کچھ لوگ کیرانہ کی بہترین فضا کو خراب کرنا چاہتے تھے۔ ذرائع کے مطابق سنتوں کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کیرانہ میں مذہبی بنیادوں پر نقل مکانی کی بات بے بنیاد ہے۔ کیرانہ میں کوئی فرقہ وارانہ معاملہ نہیں، بلکہ رنگداری ہے جس پر سخت کارروائی کرنی چاہئے۔ بی جے پی رکن پارلیمنٹ حکم سنگھ کو عوام اور انتظامیہ کے درمیان کڑی کے طور پر کام کرنا چاہئے تھا۔
First published: Jun 27, 2016 05:51 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading