உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    خبر چوپال : دہشت گردی کے الزام سے بری ہوئے نوجوانوں کو جواب کون دے گا؟

    نئی دہلی : آئی بی این کی خاص پیشکش خبر چوپال میں دہشت گردی اور ہندوستانی مسلمان کے موضوع پر منعقدہ مباحثہ میں سماجی کارکن یاسمین قریشی نے کہا کہ مسلم کمیونٹی میں سب سے زیادہ ضرورت تعلیم اور روزگار کی ہے۔ یہ دونوں ہی چیزیں اس بات پر منحصر کرتی ہیں کہ اقلیتوں کے ساتھ نظام کتنا منصفانہ ہے۔ یاسمین نے دہشت گردی کے الزام میں پکڑے گئے بے گناہ نوجوانوں کا بھی معاملہ اٹھایا اور ان کے تئیں معاشرے کی غفلت کو تشویشناک قرار دیا ۔

    نئی دہلی : آئی بی این کی خاص پیشکش خبر چوپال میں دہشت گردی اور ہندوستانی مسلمان کے موضوع پر منعقدہ مباحثہ میں سماجی کارکن یاسمین قریشی نے کہا کہ مسلم کمیونٹی میں سب سے زیادہ ضرورت تعلیم اور روزگار کی ہے۔ یہ دونوں ہی چیزیں اس بات پر منحصر کرتی ہیں کہ اقلیتوں کے ساتھ نظام کتنا منصفانہ ہے۔ یاسمین نے دہشت گردی کے الزام میں پکڑے گئے بے گناہ نوجوانوں کا بھی معاملہ اٹھایا اور ان کے تئیں معاشرے کی غفلت کو تشویشناک قرار دیا ۔

    نئی دہلی : آئی بی این کی خاص پیشکش خبر چوپال میں دہشت گردی اور ہندوستانی مسلمان کے موضوع پر منعقدہ مباحثہ میں سماجی کارکن یاسمین قریشی نے کہا کہ مسلم کمیونٹی میں سب سے زیادہ ضرورت تعلیم اور روزگار کی ہے۔ یہ دونوں ہی چیزیں اس بات پر منحصر کرتی ہیں کہ اقلیتوں کے ساتھ نظام کتنا منصفانہ ہے۔ یاسمین نے دہشت گردی کے الزام میں پکڑے گئے بے گناہ نوجوانوں کا بھی معاملہ اٹھایا اور ان کے تئیں معاشرے کی غفلت کو تشویشناک قرار دیا ۔

    • IBN Khabar
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی : آئی بی این کی خاص پیشکش خبر چوپال میں دہشت گردی اور ہندوستانی مسلمان کے موضوع پر منعقدہ مباحثہ میں سماجی کارکن یاسمین قریشی نے کہا کہ مسلم کمیونٹی میں سب سے زیادہ ضرورت تعلیم اور روزگار کی ہے۔ یہ دونوں ہی چیزیں اس بات پر منحصر کرتی ہیں کہ اقلیتوں کے ساتھ نظام کتنا منصفانہ ہے۔ یاسمین نے دہشت گردی کے الزام میں پکڑے گئے بے گناہ نوجوانوں کا بھی معاملہ اٹھایا اور ان کے تئیں معاشرے کی غفلت کو تشویشناک قرار دیا ۔


      یاسمین نے کہا کہ سچر کمیٹی کی رپورٹ کو اتنے سال ہو گئے ، لیکن اس کے بعد کسی نے یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ ان کی سفارشات پر کتنا عمل درآمد ہوا اور اس سے کتنا فرق آیا ۔ جہاں تک دہشت گردی کی بات ہے ، تو میرے پاس ایک رپورٹ ہےفریمڈ ، ڈیمنڈ ، اکیوٹیڈ ۔ یہ رپورٹ جامعہ ٹیچرس ایسوسی ایشن نے نکالی ہے۔ اس میں ایسے 16 کیسوں کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی ہیں، جن میں مسلم نوجوانوں کو پولیس کی اسپیشل سیل نے پکڑ ا، ان پر دہشت گرد ہونے کا الزام عائد کیا ، لیکن کورٹ نے انہیں باعزت بری کردیا ، کیونکہ ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں تھے۔ ان میں سے بہت سے لوگ کافی وقت تک جیل میں رہے، ان کی زندگی کے قیمتی ماہ و سال سلاخوں کے پیچھے گزر ے، کیا اس کا معاوضہ انہیں ملا؟ کیا ان کی بحالی کی کوئی کوشش کی گئی ؟۔


      یاسمین کے مطابق یہ ایک ایسی رپورٹ ہے، جس پر اگر میڈیا بحث کرے ، تو معاشرے کی صحیح تصویر سامنے آ سکتی ہے۔ ایک یونیورسٹی نے نیشنل لاء کمیشن کے ساتھ ایک ریسرچ کیا ، جس میں نکل کر یہ آتا ہے کہ دہشت گردی سے وابستہ 75 فیصد سے زیادہ کیسوں میں ملزمین اقلیت یا دلت برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر کیسوں میں کچھ ثابت نہیں ہو پاتا ہے ، لیکن ان لوگوں کی زندگی کے کئی سال جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزر جاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں ، جو کمزور طبقے کے ہیں۔ ان کے پاس کوئی قانونی سپورٹ نہیں ہے ۔ ضمانت پر رہا ہونے تک کا انتظام نہیں ہے۔

      First published: