உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بی جے پی رکن پارلیمنٹ کیرتی آزاد کی اہلیہ پونم آزاد عام آدمی پارٹی میں پناہ لینے کو تیار

    نئی دہلی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)کے ممبر پارلیمنٹ کیرتی آزاد کی اہلیہ اور تین بار پارٹی کی قومی مجلس عاملہ میں شامل رہنے والی پونم آزاد بی جے پی کو چھوڑ کر عام آدمی پارٹی میں شامل ہونے جا رہی ہیں۔

    نئی دہلی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)کے ممبر پارلیمنٹ کیرتی آزاد کی اہلیہ اور تین بار پارٹی کی قومی مجلس عاملہ میں شامل رہنے والی پونم آزاد بی جے پی کو چھوڑ کر عام آدمی پارٹی میں شامل ہونے جا رہی ہیں۔

    نئی دہلی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)کے ممبر پارلیمنٹ کیرتی آزاد کی اہلیہ اور تین بار پارٹی کی قومی مجلس عاملہ میں شامل رہنے والی پونم آزاد بی جے پی کو چھوڑ کر عام آدمی پارٹی میں شامل ہونے جا رہی ہیں۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)کے ممبر پارلیمنٹ کیرتی آزاد کی اہلیہ اور تین بار پارٹی کی قومی مجلس عاملہ میں شامل رہنے والی پونم آزاد بی جے پی کو چھوڑ کر عام آدمی پارٹی میں شامل ہونے جا رہی ہیں۔ وہ 13 نومبر کو باضابطہ طور پر عاپ میں شامل ہو جائیں گی۔ عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے ترجمان سنجے سنگھ نے آج یہ اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ پارٹی میں محترمہ پونم آزاد کی شمولیت پربات چیت مکمل ہو چکی ہے۔ ان کی پارٹی میں شامل ہونے کی کارروائی جلد ہی پوری کی جائے گی۔


      مسٹر سنجےسنگھ نے کہا کہ محترمہ پونم آزاد نے دہلی میں پوروانچل کے لوگوں اور خاص طور پر پوروانچل کی عورتوں کو منظم کرنے میں بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کے آنے سے پارٹی میں خواتین کو بااختیار بنانے کی مہم کو مزید طاقت ملے گی۔ ایسا خیال کیا جا رہا ہے کہ محترمہ پونم آزاد کو ساتھ لا کر عام آدمی پارٹی دہلی میں بڑی تعداد میں موجود پوروانچل کے شہریوں کو اپنے ساتھ کرنے کی حکمت عملی بنا رہی ہے۔ پوروانچل کے لوگوں کا دہلی میں بڑا ووٹ بینک ہے۔ ایسے میں محترمہ پونم آزاد کی عاپ میں شمولیت سے پوروانچل کی خواتین کو پارٹی سے جوڑنے میں مدد مل سکتی ہے۔


      واضح رہے کہ پونم آزاد کے شوہر کیرتی آزاد دربھنگہ سے بی جے پی ممبر پارلیمنٹ ہیں۔ گزشتہ کچھ دنوں سے مسٹر کیرتی آزاد اور ان کی اہلیہ کے بی جے پی کے چند اعلی لیڈروں کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہوتے جا رہے تھے۔ محترمہ پونم آزاد کے عاپ میں شامل ہونے کا فیصلہ اسی کا نتیجہ سمجھا جا رہا ہے۔

      First published: