ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

زرعی قوانین اور ایم ایس پی کو لے کر کسان لیڈروں اور حکومت کے درمیان پانچویں دور کی بات چیت شروع

زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کررہے کسانوں کے نمائندوں اور حکومت کے درمیان پانچویں دور کی بات چیت نئی دہلی میں واقع وگیان بھون میں چل رہی ہے۔ نئے زرعی قوانین کو اپنے خدشات اور ایم ایس پی کی گارنٹی کے مطالبہ کو لے کر کسان لیڈران وگیان بھون میں ہیں ۔

  • Share this:
زرعی قوانین اور ایم ایس پی کو لے کر کسان لیڈروں اور حکومت کے درمیان پانچویں دور کی بات چیت شروع
زرعی قوانین اور ایم ایس پی کو لے کر کسان لیڈروں اور حکومت کے درمیان بات چیت شروع

زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کررہے کسانوں کے نمائندوں اور حکومت کے درمیان پانچویں دور کی بات چیت نئی دہلی میں واقع وگیان بھون میں چل رہی ہے۔ نئے زرعی قوانین کو اپنے خدشات اور ایم ایس پی کی گارنٹی کے مطالبہ کو لے کر کسان لیڈران وگیان بھون میں ہیں ۔ ادھر بات چیت سے پہلے اکھل بھارتیہ کسان سبھا کے اہلکاروں نے ہفتہ کو کہا کہ نئے زرعی قوانین کو واپس لئے جانے کے بعد ہی یہ کسان آندولن ختم ہوگا ۔ کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے واضح طور پر کہا کہ قانون واپسی کے بعد ہی آندولن ختم ہوگا ۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایم ایس پی پر قانون بنانے کا بھی مطالبہ کیا ۔


خیال رہے کہ نئے زرعی قوانین کو لے کر جاری اختلافات کو دور کرنے کیلئے حکومت اور مظاہرہ کررہیں کسان تنظیموں کے درمیان جمعرات کو چوتھے دور کی بات چیت بے نتیجہ رہی تھی ۔




ادھر پچھلے دس دن سے قومی دارالحکومت میں جاری اس تحریک کی کامیابی کے پیش نظر دوسری ریاستوں میں بھی اس تحریک کا آغاز ہوگیا ہے یا ریاستوں کی جانب سے کسانوں کی حمایت کی گئی ہے۔ بہار میں راشٹریہ جنتا دل نے آج سے دھرنے مظاہرے کا اعلان کیا ہے۔ ہندوستان کی کمیونسٹ پارٹی (مارکسی لیننسٹ) نے بھی کسانوں کے مسائل پرتحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔

دریں اثنا ہریانہ، پنجاب، اترپردیش اور متعدد ریاستوں کے احتجاجی کسانوں کو کھانے کی اشیاء کی بھرپور مدد کی جارہی ہے۔ اس تحریک کو ٹریڈ یونین تنظیموں، ٹرانسپورٹ یونینوں اور کچھ دیگر افراد کی بھی حمایت مل رہی ہے۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Dec 05, 2020 02:43 PM IST