உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    رکشا بندھن : بہنوں کے پیار اور مقدس دھاگوں سے بُنی گئی ہے گنگا جمنی تہذیب

    رکشا بندھن : بہنوں کے پیار اور مقدس دھاگوں سے بُنی گئی ہے گنگا جمنی تہذیب

    رکشا بندھن : بہنوں کے پیار اور مقدس دھاگوں سے بُنی گئی ہے گنگا جمنی تہذیب

    علم و ادب اور آداب و القاب کے حوالے سے تو لکھنئو پوری دنیا میں ممتاز شناخت رکھتا ہی ہے ، لیکن یہ کم لوگ جانتے ہیں کہ اپنی تہذیب، ثقافت اور مذہبی رسم و رواج اور تہواروں کے حوالے سے بھی اودھ کی ایک نہایت روشن اور سنہری تاریخ رہی ہے ۔

    • Share this:
    لکھنئو : علم و ادب اور آداب و القاب کے حوالے سے تو لکھنئو پوری دنیا میں ممتاز شناخت رکھتا ہی ہے ، لیکن یہ کم لوگ جانتے ہیں کہ اپنی تہذیب، ثقافت اور مذہبی رسم و رواج  اور تہواروں کے حوالے سے بھی اودھ  کی ایک نہایت روشن  اور سنہری تاریخ رہی ہے ۔ ایک ایسی تاریخ جس پر انسانیت فخر کرسکتی ہے اور  رشتے ناز کر سکتے ہیں ، جس کی کوئی دوسری نظیر نہیں ۔ بات اگر رکشا بندھن یا راکھی کے تہوار کے پس منظر میں کی جائے تو بظاہر کمزور نظر آنے والے اس غیر اہم دھاگے اور بندھن کی تاریخ بھی بہت روشن اور نہایت مضبوط نظر آتی ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ نوابین اودھ نے رشتوں کے احساس اور پاس کے لئے نہ صرف اپنے قول و عمل کو تاریخ کا حصہ بنا دیا بلکہ اس دھاگے کو مزید مضبوط و مستحکم کرنے کے لئے اپنے ایوانوں اور درباروں کے دروازے بھی بہنوں کی حفاظت اور امداد کے لئے ہمیشہ کھلے رکھے۔

    معروف دانشور اور نوابی  خانوادے کے چشم و چراغ نواب جعفر میر عبد اللہ کہتے ہیں کہ راکھی ایک  ایسا دھاگا ہے ، جس نے لکھنئو کی گنگا جمنی تہذیب کے تانے بانے بنے ہیں ۔ تاریخ گواہی پیش کرتی ہے کہ زمانہ قدیم سے اودھ میں ہندو بہنیں اپنے مسلم بھائیوں کی کلائی پر محبت کے دھاگے باندھ کر اس خوبصورت بندھن کی سماجی اہمیت کو زندہ و تابندہ کرتی رہی ہیں اور اودھ کی تاریخ میں ایسی کئی مثالیں ہیں جب مسلم بھائیوں نے اپنی ہندو بہنوں کے تحفظ کے لئے صرف زر و زمین  ہی نہیں دئے بلکہ اپنی جانیں نذر کرکے بھی ان کی زندگی آور آبرو کی حفاظت کی ہے ۔

    نواب مسعود عبد اللہ کہتے ہیں کہ نوابین اودھ کی تاریخ میں ایسی کئی مثالیں ہیں جب نوابوں ، شاہوں اور تعلق داروں نے اپنی ہندو بہنوں کی عزت ناموس، دولت اور زندگیوں کی حفاظت کے لئے بہترین اور قابل تقلید قربانیاں پیش کی ہیں۔ ان سے راکھی بندھوا کر انہیں جاگیریں بھی عطا کیں ، مندروں  کی تعمیر کے لئے زمینیں دیں اور دولت و ثروت کے نذرانے پیش کرکے ہندوستان کی قدیم تہذیب کو اپنے عوامل اور عظیم اخلاقی رویوں سے مالا مال کردیا۔

    نواب آصف الدولہ کے خصوصی تحفظی دستے کے سپہ سالار نوید شکوہ نے اپنی منھ بولی بہن سرمیتا بی کی آبرو بچانے کے لئے اپنا ایک ہاتھ گنوا دیا تھا اور پھرجب تک زندہ رہے دوسرے ہاتھ پر سرمیتا  کی محبت کے دھاگے کو باندھے رہے ۔

    معروف گلوکارہ سنیتا جھِنگرن جب راکھی کی اہمیت اور اپنے مسلم بھائیوں کے عملی رویوں اور ناقابل فراموش سلوک کا ذکر کرتی ہیں تو پورے اودھ کی تہذیب ان کے محبت بھرے آنسووں میں شرابور ہو جاتی ہے ۔ سنیتا کہتی ہیں کہ لکھنئو کے مسلم بھائیوں نے سگے بھائیوں سے زیادہ پیار دیا ، سوت کے کمزور دھاگے کو اپنی محبت، سرپرستی اور طاقت سے زنجیروں کی طرح اتنا مضبوط بنا دیا ، جس پر رشک کیا جاسکتا ہے ، فخر ہوتا ہے۔ زندہ رہنے اور جینے  کا حوصلہ ملتا ہے۔ تصویر کا دوسرا رخ دیکھئے تو ان آنسووں کے ساتھ مسکراہٹوں کی آمیزش اس مشترکہ تہذیب کی تصویر کو مزید خوبصورت بناتی ہے۔آج لکھنئو کو ہی نہیں بلکہ پورے ملک کو اسی خوبصورت تہذیب اور روشن روایت کو دہرانے اور اپنانے کی ضرورت ہے ۔ موجودہ عہد میں ہر سماج ہر مذہب کی بہنیں اور بیٹیاں عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا ہیں ۔ لہٰذا ضرورت اسی بات کی ہے کہ مسلم بہنیں ہندو بھائیوں اور ہندو بہنیں مسلم بھائیوں کے راکھی باندھ کر سماجی رشتوں کو استحکام عطا کریں ۔

    انسانیت کو نفرت و تشدد کی نہیں عزت و محبت کی ضرورت ہے جس معاشرے  اور سماج میں عورتوں  کو عزت دی جاتی ہے ان کو تحفظ فراہم کیا جاتا ہے ان کے حقوق کا تحفظ کیا جاتا ہے وہی سماج قابل تقلید اور اعلیٰ اقدار و معیار کا ترجمان و عکاس ہوا کرتا ہے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: