ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

امت شاہ سے ملاقات معاملہ: دہلی پولیس کے ذریعہ روکے جانے کے بعد شاہین باغ کے مظاہرین نے اب کیا یہ مطالبہ

غور طلب ہے کہ آج شاہین باغ کے مظاہرین نے وزیرداخلہ امت شاہ کی طرف سے تین دن کے اندر ملاقات کے لیے آنے کے آفر کے مدنظر ان کی رہائش گاہ جانے کا اعلان کیا تھا۔

  • Share this:
امت شاہ سے ملاقات معاملہ: دہلی پولیس کے ذریعہ روکے جانے کے بعد شاہین باغ کے مظاہرین نے اب کیا یہ مطالبہ
دہلی پولیس کے ذریعہ روکے جانے کے بعد شاہین باغ کے مظاہرین نے اب کیا یہ مطالبہ

نئی دہلی۔ شہریت قانون کے خلاف صرف اپنا اعتراض جتانے اور اپنی نئی بات رکھنے کے لیے ہزاروں کی تعداد میں وزیرداخلہ امت شاہ سے ملاقات کے لیے آگے بڑھے مظاہرین نے دلی پولیس کے ذریعے روکے جانے کے بعد واضح کیا ہے کہ اگر دہلی پولیس وزیرداخلہ سے ہمیں ملنے نہیں دے رہی ہے تو مرکزی حکومت کے نمائندے کو ہمارے پاس آکر بات کرنی چاہیے۔ مظاہرین میں شامل سونو وارثی، محمد آصف اور شاہنواز خان نے نیوز 18 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم  وزیرداخلہ سے ملنے جانا چاہتے تھے۔ ہم نے اجازت کے لیے لیٹر بھی دیا تھا لیکن ہمیں اجازت نہیں ملی ۔ہمارا کوئی وفد نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ہمارا نمائندہ ہے کیونکہ یہ احتجاج تمام لوگوں کا ہے، تمام خواتین کا ہے۔ اس لئے تمام لوگ وزیر داخلہ سے ملنے جانا چاہتے تھے۔ اگر وزیرداخلہ اپنے پروٹوکول اور سیکورٹی وجوہات کی بنا پر ہم سے نہیں مل سکتے اور ہمیں دہلی پولس جانے کی اجازت نہیں دے رہی تو وزیر داخلہ خود یہاں پر آ سکتے ہیں۔ کیونکہ وہ دوسرے مقامات پر ووٹ مانگنے بھی تو جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نیوز 18 اور میڈیا کے ذریعے حکومت کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے نمائندے ہمارے پاس بھیجیں۔ رضاکار شاہنواز نے کہا کہ شہریت قانون کے خلاف احتجاج صرف شاہین باغ کا مسئلہ نہیں ہے اس لیے شاہین باغ کے لوگ پورے ملک کے نمائندے نہیں ہیں یہ پورے ملک کا مسئلہ ہے۔


غور طلب ہے کہ آج شاہین باغ کے مظاہرین نے وزیرداخلہ امت شاہ کی طرف سے تین دن کے اندر ملاقات کے لیے آنے کے آفر کے مدنظر ان کی رہائش گاہ جانے کا اعلان کیا تھا۔ دوپہر دو بجے ایک مارچ کی شکل میں سینکڑوں لوگ آگے بڑھے لیکن دلی پولیس نے بڑی تعداد میں سیکورٹی اہلکاروں کو تعینات کر دیا تھا جس کے بعد مظاہرین میں سے آٹھ لوگوں کا ایک وفد جس میں خاص طور سے شاہین باغ کی دبنگ دادیاں بھی شامل تھیں، پولیس کے اعلیٰ افسران سے ملیں۔ ملاقات میں دہلی پولیس نے صاف کر دیا کہ وزارت داخلہ کے پاس سے کوئی آفیشل اپائنٹمنٹ نہیں ہے اس لیے مظاہرین کو آگے بڑھنے نہیں دیا جا سکتا جس کے بعد تمام مظاہرین لوٹ گئے۔ بہرحال موقع پر شاہین باغ کے مظاہرین شہریت کے خلاف باضابطہ احتجاج پر دوبارہ سے بیٹھ گئے ہیں۔



دوسری جانب جنوب مشرقی دہلی کے ڈی سی پی آرپی مینا نے واضح کیا ہے کہ آٹھ لوگوں کا وفد اپنی اس درخواست کا اسٹیٹس جاننے کے لیے ہمارے پاس آیا تھا جس میں انہوں نے وزیر داخلہ سے ملنے کے لیے وقت مانگا تھا لیکن ابھی تک ایسی کوئی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام مظاہرین اس بات پر رضامند ہو گئے ہیں کہ وہ لوٹ جائیں گے۔ اگر کوئی بات آگے جانے کی سامنے آتی ہے تو دہلی پولیس تمام طرح کے بندوبست کرے گی۔
First published: Feb 16, 2020 07:31 PM IST