ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

سری لنکا میں برقع پر پابندی: جانیں کیا کہتے ہیں مسلم دانشور

سلسلہ وار دہشت گردانہ حملوں کے بعد سری لنکا نے بھی اب برقع پر پابندی لگا دی ہے۔ کئی اور ممالک نے پہلے سے ہی پابندی لگا رکھی ہے۔

  • Share this:
سری لنکا میں برقع پر پابندی: جانیں کیا کہتے ہیں مسلم دانشور
علامتی تصویر

سری لنکا میں ایسٹرکے دن ہوئے سلسلہ واردہشت گردانہ حملوں کے بعد وہاں کی حکومت نےسخت رخ اپناتے ہوئے برقع اورچہروں کوڈھکنے والے کپڑوں پرپابندی لگانےکا فرمان جاری کردیا ہے۔ سری لنکا میں ہوئے سلسلہ وار بم دھماکوں کی ذمہ داری آئی ایس نے لی تھی، جس کے بعد حکومت نے یہ فرمان جاری کیا ہے۔


سری لنکا کےصدرمیتھری پالا سری سینا نےلکھا ’’ایسے کپڑوں کوپہننا جو چہروں کو پوری طرح سے ڈھکتے ہوں، پیرکے روزسے ان پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ اس کے کچھ دن پہلے ہی سری لنکا کی پارلیمنٹ میں بھی سیکورٹی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے برقع پرپابندی لگانےکی ایک تجویزپیش کی گئی تھی۔


پابندی پر بحث جاری


سری لنکا میں برقع پرپابندی عائد ہونےکے بعد اب ایک بارپھر دنیا بھرمیں برقع کو لےکر بحث شروع ہو گئی ہے۔ یہ سوال کیا جانے لگا ہے کہ کیا صرف سرکا ڈھانپنا ہی کافی ہے یا پھرچہرے پرنقاب ڈالنا بھی ضروری ہے۔

لکھنئو عیش باغ عیدگاہ کے امام، مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن اور سنی مذہبی رہنما مولانا خالد رشید فرنگی محلی نےنیوز 18 سے بات کرتے ہوئےکہا کہ اسلام میں پردے کا حکم ہے۔ پردے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا پورا جسم قاعدے سے ڈھکا ہوا ہواوروہ برقع پہن کربھی ہوسکتا ہےاورچادراوڑھ کربھی ہوسکتا ہے۔

کیا کہتا ہے قرآن

مولانا فرنگی محلی کی دلیل ہے کہ قرآن پاک میں اللہ نے پیغمبرمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ’’اپنی بیویوں، بیٹیوں اورمسلمانوں کی عورتوں سےکہہ دوکہ وہ اپنےاوپرچادرلٹکا لیا کریں۔ اس سے بہت جلد ان کی پہچان ہوجائے گی اورپھروہ ستائی نہیں جائیں گی‘‘۔ مولانا نے کہا کہ پردہ اسلام میں شریعت کا ایک اہم حصہ ہے۔

سری لنکا میں برقع پرعائد پابندی کولےکرمولانا نےکہا کہ مذہبی آزادی کا حق ہرایک کو حاصل ہے اوراس میں مسلمان بھی شامل ہیں۔ انہوں نےسری لنکا حکومت کی طرف اشارہ کرتے ہوئےکہا کہ وہاں دہشت گردانہ حملے کا مطلب یہ نہیں ہےکہ اس کی وجہ سے پوری قوم کوآپ شک کی نظرسے دیکھنے لگیں۔ اس کا یہ قطعاً مطلب نہیں کہ آپ شریعت پرحملہ کرنے لگیں۔ مولانا نے مطالبہ کیا کہ سری لنکا کی حکومت اپنے فیصلہ پر نظرثانی کرتے ہوئے برقع پرعائد پابندی واپس لے۔

جسم ڈھکنا ضروری

وہیں، دوسری طرف نوجوان اہل حدیث عالم دین اورمرکز ابوالکلام آزاد اسلامک اویکننگ سینٹر، نئی دہلی کے صدرمولانا محمد رحمانی کہتے ہیں کہ اسلام میں اصل پردہ تو پورے جسم کا ہے، جس میں چہرہ بھی شامل ہے۔ مولانا نےکہا کہ پردہ سے مراد کوئی مخصوص کپڑا جیسے برقع وغیرہ ہی نہیں بلکہ ہروہ کپڑا ہے جوڈھیلا ڈھالا ہواورجس سے عورت کا پورا جسم ڈھکا رہے۔

انہوں نے کہا کہ البتہ جہاں تک سیکورٹی جانچ کا معاملہ ہے تو ایسی صورت میں حکومتوں کوخواتین سیکورٹی گارڈزرکھنے چاہئیں۔ ان کی تعداد بڑھائی جانی چاہئےتاکہ ووٹنگ مراکز اوردیگرمتعینہ مقامات پرانہیں کوئی پریشانی نہ ہو۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مسلم خواتین کو بھی سیکورٹی جانچ میں بھرپورتعاون کرنا چاہئے۔ مولانا محمد رحمانی نے یہ بھی کہا کہ پردہ کا معاملہ صرف مسلم خواتین تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ کئی ایسی غیرمسلم خواتین بھی ہیں جواپنا چہرہ دکھانا نہیں چاہتی ہیں اورگھونگھٹ اوڑھ کروہ پردے میں رہنا چاہتی ہیں۔ ایسی خواتین کے بارے میں بھی حکومت کو سوچنا چاہئے اورانہیں خواتین سیکورٹی گارڈ فراہم کئےجانےچاہئیں۔ انہوں نے بھی سری لنکا میں دہشت گردانہ حملےکے بعد برقع پرپابندی کو غلط بتایا اورکہا کہ اس سے مسئلہ حل ہونے والا نہیں ہے۔

کن ملکوں میں ہے برقع پر پابندی

سری لنکا میں برقع پرروک سے پہلے چاڈ، کیمرون، گابون، مراکش، آسٹریا، بلغاریا، ڈنمارک، فرانس، بیلجیم اورچین کے مسلم اکثریتی علاقہ شنجیانگ میں بھی برقع پرروک لگی ہوئی ہے۔ دہشت گردانہ حملوں کے بعد اب سری لنکا بھی برقع پرپابندی لگانے والے ملکوں کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔
First published: Apr 29, 2019 07:45 PM IST