ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جانیں، الیکشن میں نیلی سیاہی کا کیوں کیا جاتا ہے استعمال

سیاہی کا داغ تقریبا 15 دنوں میں ہلکا پڑ جاتا ہے لیکن اسے پوری طرح سے جانے میں تین ماہ لگ جاتے ہیں۔

  • Share this:
جانیں، الیکشن میں نیلی سیاہی کا کیوں کیا جاتا ہے استعمال
علامتی تصویر

کسی بھی الیکشن میں ووٹر کو اپنا ووٹ دینے سے پہلے ایک پراسیس سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس پراسیس میں اپنی شہادت والی انگلی میں الیکشن کی سیاہی لگوانا بھی شامل ہے۔ اس انگلی کے ناخون کے آخری سرے سے لے کر نیچے کے اسکن کو کور کرتی اس سیاہی کی تاریخ ملک کی جمہوریت جتنی ہی پرانی اور دلچسپ ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ کیوں الیکشن میں نیلی سیاہی کا استعمال ہوتا ہے۔


ملک میں پہلی بار ہوئےالیکشن کے دوران چیف الیکشن کمشنر اور ٹیم نے کئی مسائل کا سامنا کیا جیسے کہ ڈپلیکیسی یعنی ایک ہی ووٹر اپنی پسندیدہ پارٹی کے لئے بار بار ووٹ کرنے کی کوشش کرے۔  آئیڈنٹٹی تھیفٹ بھی ایک ڈر رہا۔ اس کو روکنے کے لئے کمیشن نے نہ مٹنے والی سیاہی کی دریافت کی۔


سلور نائٹریٹ عنصر


یہ کاغذ پر لکھنے کے لئے استعمال ہونے والی عام سیاہی نہیں ہے۔  اس میں سلور نائٹریٹ  نامی عنصر ہوتا ہے جو اسکن پر لگتے ہی اسکن پر موجود سالٹ سے لگ کرایک دم پختہ ہو جاتا ہے۔ انگلی پر یہ سیاہی کہیں بھی نہیں بلکہ بلکہ خاص طور پر کیوٹیکل پر لگائی جاتی ہے۔ کیوٹیکل یعنی ناخون کے نچلے حصہ کو اسکن سے جوڑنے والا حصہ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں جمنے پر اسے نکالنا ناممکن ہو جاتا ہے۔

نارنگی رنگ کی سیاہی

الیکشن کی یہ سیاہی اب دنیا کے مختلف ملکوں میں بھی استعمال ہونے لگی ہے۔ ہندوستان کی ہی طرح تقریبا تمام ملکوں میں یہ وائلٹ رنگ کی ہوتی ہے لیکن سرینام میں ایک بار نارنگی رنگ کی سیاہی بھی استعمال کی گئی تھی حالانکہ اس کے بعد یہ دہرائی نہیں گئی۔

سیاہی نیلی ہی کیوں؟

سیاہی میں ڈالا گیا سلور نائٹریٹ پانی میں گھلنے والا ہوتا ہے۔ سیاہی کا رنگ نیلا ہو تو یہ سلور اور نائٹریٹ پانی میں ملنے کے بعد اسکن پر کالا سا نشان چھوڑتی ہے۔ اسکن پر لگنے کے بعد سلور نائٹریٹ، سلور کلورائڈ ( انگلی پر موجود سالٹ کے ساتھ) مل کر ری ایکٹ کرتا ہے۔ اس کے بعد یہ اسکن پر جم جاتی ہے۔ اس نشان کو پانی، الکحل، نیل پالش ریموور یا بلیچ سے نہیں ہٹایا جا سکتا۔ یہ نشان تب مٹتا ہے جب پرانے اسکن سیلس کو نئے سیلس ریپلیس کر دیتے ہیں۔

سیاہی کے تصور کا کریڈٹ

ووٹر کی سیاہی کا آئیڈیا دینے کا کریڈٹ ملک کے پہلے چیف الیکشن کمشنر سکمار سین کو جاتا ہے۔ حالانکہ ابتدائی انتخابات میں سیاہی کے بجائے ڈائی کا استعمال ہوا تھا۔ اس کے بعد باقاعدہ طور پر سیاہی کی دریافت ہوئی جس کا استعمال انتخابات کے دوران صرف اور صرف رائے دہندگان پر ہونے لگا۔

پہلی بار اس سیاہی کا استعمال

پہلی بار اس خاص سیاہی کا استعمال سال 1962 کے لوک سبھا الیکشن میں ہوا تھا۔ جس کے بعد سے یہ ہر الیکشن کا ایک اہم حصہ ہو گیا۔ ویسے تو سیاہی کا داغ تقریبا 15 دنوں میں ہلکا پڑ جاتا ہے لیکن اسے پوری طرح سے جانے میں تین ماہ لگ جاتے ہیں۔

کہاں اور کون بناتا ہے سیاہی

ہندوستان میں یہ سیاہی ایک ہی جگہ سے سپلائی ہوتی ہے۔ میسور پینٹس اینڈ ورنش لمیٹیڈ( ایم وی پی ایل) سے جو میسور کی ایک پبلک سیکٹر یونٹ ہے۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا کے علاوہ یہاں سے سیاہی کئی دوسرے ملکوں جیسے کناڈا، کمبوڈیا، مالدیپ ، نیپال، جنوبی افریقہ اور ترکی بھی بھیجی جاتی ہے لیکن کسی بھی بازار میں یہ سیاہی نہیں مل سکتی۔
First published: Mar 28, 2019 03:50 PM IST