உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    آخر کیوں بغیر شادی شدہ ہی رہ گئے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی؟

    اٹل بہاری واجپئی ۔ فائل فوٹو ۔

    اٹل بہاری واجپئی ۔ فائل فوٹو ۔

    جب ملک کے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپیئی کا ذکر آتا ہے تو یہ سوال اکثر پوچھا جاتا ہے کہ انہوں نے شادی کیوں نہیں کی تھی؟

    • Share this:
      جب ملک کے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کا ذکر آتا ہے تو یہ سوال اکثر پوچھا جاتا ہے کہ انہوں نے شادی کیوں نہیں کی تھی؟ جب وہ عوامی زندگی میں تھے تب بھی ان سے کئی بار یہ سوال پوچھا جاتا رہا اور ان کا جواب ہمیشہ اس کے آس پاس ہی رہا کہ مصروفیت کے چلتے ایسا نہیں ہو پایا اور یہ کہہ کر اکثر وہ دھیرے سے مسکرا بھی دیتے تھے۔ تاہم ان کے قریبیوں کا ماننا ہے کہ سیاسی خدمت کی وجہ سے وہ غیر شادی شدہ رہے۔ انہوں نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے لئے تاحیات غیر شادی شدہ رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔

      کئی بار دیا اس سوال کا جواب

      اٹل نے کئی بار عوامی زندگی میں اس سوال کا کھل کر جواب دیا۔ سابق صحافی اور اب کانگریس لیڈر راجیو شکلا نے بھی ایک انٹرویو کے درمیان یہ سوال اٹل سے پوچھ لیا تھا۔ اس کے جواب میں انہوں نے کہا تھا کہ واقعات کا سلسلہ ایسا چلتا گیا کہ میں اس میں الجھتا گیا اور شادی نہیں کر پایا۔ اس کے بعد راجیو نے پوچھا کہ افیئر بھی کبھی نہیں ہوا زندگی میں؟ اس پر اپنی مسکان کے ساتھ اٹل نے جواب دیا ’’ افیئر کا ذکر عوامی طور پر نہیں کیا جاتا‘‘۔ تاہم اسی انٹرویو میں انہوں نے قبول کیا کہ وہ اکیلا محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے اس سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا’ ہاں اکیلا محسوس کرتا ہوں، بھیڑ میں بھی اکیلا محسوس کرتا ہوں‘۔

      لو لیٹر بھی لکھا تھا اٹل نے 
      اس کہانی کی شروعات 40 کی دہائی میں ہوتی ہے، جب اٹل گوالئیر کے ایک کالج میں پڑھ رہے تھے۔ تاہم دونوں نے اپنے رشتہ کو کوئی بھی نام نہیں دیا لیکن کلدیپ نیئر کے مطابق یہ خوبصورت رشتہ پیار کا رشتہ تھا۔ اٹل بہاری اور راجکماری کول کے درمیان اس رشتہ کے چلتے سیاسی گلیاروں میں خوب ذکر بھی ہوا۔  اٹل جی پر لکھی گئی کتاب ’ اٹل بہاری واجپئی: اے مین آف آل سیسزنس‘‘ کے مصنف اور صحافی کنگشوک ناگ نے لکھا کس طرح پبلش رلیشن پروفیشنل سونیتا بدھراجا کے کول سے اچھے رشتہ تھے۔ وہ ایسے دن تھے جب لڑکے اور لڑکیوں کی دوستی کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا تھا۔ اسلئے عام طور پر پیار ہونے پر بھی لوگ جذبات کا اظہار نہیں کر پاتے تھے۔

      اس سب کے بعد بھی نوجوان اٹل نے لائبریری میں ایک کتاب کے اندر راجکماری کے لئے ایک خط رکھا۔ لیکن انہیں اس خط کا کوئی جواب نہیں ملا۔ کتاب میں راجکماری کول کے ایک خاندانی قریبی کے حوالہ سے کہا گیا کہ وہ اصل میں اٹل سے شادی کرنا چاہتی تھیں، لیکن گھر میں اس کی زبردست مخالفت ہوئی۔
      First published: