ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جب اٹل بہاری واجپئی نے ٹھکرا دی تھی بھارت رتن کی پیشکش

سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کو 27 مارچ 2015 کو ملک کا سب سے اعلیٰ اور بڑا اعزاز "بھارت رتن" سے سرفراز کیا گیا تھا۔

  • Share this:
جب اٹل بہاری واجپئی نے ٹھکرا دی تھی بھارت رتن کی پیشکش
سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کو 27 مارچ 2015 کو ملک کا سب سے اعلیٰ اور بڑا اعزاز "بھارت رتن" سے سرفراز کیا گیا تھا۔

ملک کے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کو 27 مارچ 2015 کو ملک کا سب سے اعلیٰ اور بڑا اعزاز "بھارت رتن" سے سرفراز کیا گیا تھا۔ صدرجمہوریہ پرنب مکھرجی اور وزیراعظم نریندرمودی کی موجودگی میں انہیں یہ اعزازدیا گیا تھا۔


سابق وزیراعظ اٹل بہاری واجپئی کا گزشتہ روزجمعرات کو 93 سال کی عمرمیں انتقال ہوگیا، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اس سے قبل بھی ایک باراٹل بہاری واجپئی کو"بھارت رتن" دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا، لیکن انہوں نے خود ہی اسے مسترد کردیا تھا۔


کیوں اٹل بہاری نے بھارت رتن نہیں لیا تھا؟


اٹل بہاری نے بس سے لاہور جاکر ہند- پاک کے رشتوں میں ایک نیا باب شروع کرنا چاہا تھا۔ حالانکہ پرویزمشرف نے کارگل میں دراندازی کراکے ہندوستان کی پیٹھ میں خنجرگھونپنے کا کام کیا۔ بہرحال کارگل میں جنگ ہوئی اورہندوستانی فوج نے اس میں جیت حاصل کی۔ کارگل کے بعد ہوئے الیکشن میں بی جے پی نے جیت حاصل کی اوراٹل بہاری واجپئی تیسری بار ملک کے وزیراعظم منتخب ہوئے۔

اٹل بہاری واجپئی کے میڈیا مشیر رہے سینئر صحافی اشوک ٹنڈن کے مطابق پارٹی کے کئی سینئر لیڈر یہ چاہتے تھے کہ وزیراعظم کو کارگل فتح کے بعد بھارت رتن سے سرفراز کیا جانا چاہئے۔ اٹل بہاری سے بھی کہا گیا کہ جواہرلال نہرواوراندرا گاندھی نے بھی وزیراعظم رہتے ہوئے خود کو بھارت رتن دلوایا تھا اورانہیں بھی ایسا ہی کرنا چاہئے۔ اٹل بہاری نے جب یہ بات سنی تو بغیر کسی جھجھک کے انہوں نے اس سے صاف طور پرانکار کردیا۔

اٹل بہاری نے کیا کہا تھا؟

دراصل اٹل بہاری اس دوران بھی سیاست میں اپنی صاف گوئی کے لئے جانے جاتے تھے۔ اٹل نے اس تجویز پربھی واضح کردیا کہ یہ بالکل غیرمناسب ہے کہ اپنی خود کی حکومت میں انہیں"بھارت رتن" سے سرفراز کیا جائے۔ یہاں تک کہ اٹل بہاری کے انکار کرنے کے باوجود ان کی کابینہ کے کچھ وزرا نے منصوبہ تیارکیا کہ جب وزیراعظم کسی غیرملکی دورے پر ہوں گے تو انہیں بھارت رتن دینے کا اعلان کرا دیا جائے گا۔ حالانکہ اٹل بہاری کو اس بات کی وقت رہتے اطلاع مل گئی اورانہوں نے ان سبھی وزرا کو سختی سے ڈانٹ لگاتے ہوئے ایسا کچھ بھی نہ کرنے کا مشورہ دیا۔

اٹل بہاری کو کئی اعزاز سے سرفرار کیا گیا

بھارت رتن سے قبل بھی اٹل بہاری واجپئی کو کئی اعزاز سے سرفراز کیا جاچکا ہے۔ 1992 میں انہیں پدم بھوشن، 1994 میں لوک مانیہ تلک اعزاز، 1994 میں سب سے بہترین ممبرپارلیمنٹ ایوارڈ اور 1994 میں ہی گووند ولبھ پنت اعزازسے نوازا گیا۔ واجپئی تین بار ملک کے وزیراعظم بنے تھے۔ پہلی بار 31-16 مئی 1996 ۔ اس کے بعد 19 مارچ 1998 سے 13 مئی 2004 تک اوراس کے بعد 1999 سے لے کر 2004 تک۔

اٹل بہاری واجپئی غیرکانگریسی وزیراعظم بنے، جنہوں نے پورے پانچ سال تک حکومت چلائی۔ 26 پارٹیوں کے ساتھ حکومت چلانے والے وہ ملک کے پہلے وزیراعظم تھے۔ اٹل بہاری واجپئی ریکارڈ 9 بار لوک سبھا کے لئے منتخب کئے گئے۔ جبکہ دو باروہ راجیہ سبھا کے لئے منتخب کئے گئے۔ وہ ایک واحد ایسے لیڈر تھے، جو 4 ریاستوں یوپی، مدھیہ پردیش، گجرات اوردہلی سے منتخب ہوکرپارلیمنٹ  پہنچے تھے۔

 

 
First published: Aug 17, 2018 06:55 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading