ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اردو کو لے کر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے نشانے پر کیوں ہے اروندکجریوال حکومت ؟

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کا کہنا ہے کہ وزیر اعلی کیجریوال اور  اکیڈمی کے چیئرمین نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے جو حالیہ میٹنگیں کی ہیں ، وہ صرف ایک ڈرامہ ہے اور دہلی کے عوام اور اردو والوں کو بیوقوف بنانے کی کوشش ہے ۔

  • Share this:
اردو کو لے کر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے نشانے پر کیوں ہے اروندکجریوال حکومت ؟
اردو کو لے کر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے نشانے پر کیوں ہے اروندکجریوال حکومت ؟

نئی دہلی : دہلی اردو اکیڈمی کو لے کر ان دنوں عام آدمی پارٹی کی کیجریوال حکومت دہلی میں سیاسی زمین تلاش رہی ہے ۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے نشانے پر ہے ۔ 14 جون کو مجلس اتحاد المسلمین دہلی کے صدر کلیم الحفیظ نے پریس کانفرنس کرکے عام آدمی پارٹی کی سرکار پر دہلی میں اردو کے ساتھ نا انصافی کرنے اور اردو کو برباد کرنے کا الزام عائد کیا تھا ، لیکن آج ایک بار پھر پھر مجلس اتحاد المسلمین کی طرف سے اردو کو لے کر حکومت کے خلاف مورچہ کھولا گیا ۔ جاری کی گئی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ اردو اکیڈمی دہلی کے ذمہ داران کے ساتھ وزیر اعلی کیجریوال اور اکیڈمی کے چیئرمین نائب وزیر اعلی   منیش سسودیا نے جو حالیہ میٹنگیں کی ہیں ، وہ صرف ایک ڈرامہ ہے اور دہلی کے عوام اور اردو والوں کو بیوقوف بنانے کی کوشش ہے ۔ دہلی سرکار بتائے کہ اردو اکیڈمی کو اردو جاننے والا وائس چیئرمین کب ملے گا ، بجٹ کب دیا جائے گا ؟ اور خالی پڑی 27 پوسٹ کب بھری جایئں گی ؟ ڈی ایس ایس بی سے نکالی گئی اساتذہ کی اسامیوں کو دہلی اردو اکیڈمی سے جوڑ کر سرکار اکیڈمی کا اشتہار کیلئے استعمال نہ کرے ۔


کلیم الحفیظ نے کہا کہ آخر دہلی کے وزیر اعلی اور نائب وزیر اعلی اردو اکیڈمی کو لے کر کیوں منہ میں دہی جما کر بیٹھے ہیں ۔ ڈی ایس ایس بی کے ذریعہ جو اردو اساتذہ کی پوسٹس نکالی گئی ہیں ، ان کو بھرنے کے  لیے دہلی سرکار کیا قدم اٹھا رہی ہے ؟ کیا اردو اکیڈمی کا کام سرکار کیلئے اشتہار بازی کرنا ہے یا اردو ادب  ، شاعروں ، ادیبوں اور اردو کے فروغ کے لیے کام کرنا ہے ۔ سرکار بتائے کہ اس نے اردو کے کوالیفائیڈ ٹیچر تیار کرنے کے لئے کیا اسکیم  بنائی ہے؟ ۔


کلیم الحفیظ  نے کہا کہ دلی سرکار کے شعبہ تعلیم کی جانب سے جو اردو اساتذہ کی اسامیاں نکالی گئی ہیں ان کا اردو اکیڈمی سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ ان کو اکیڈمی کی خالی اسامیوں سے خلط ملط نہ کیا جائے ۔ صدر مجلس نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ مجلس کے ذریعہ اٹھائے گئے ایشوز پر دہلی سرکار سنجیدگی سےکام کرے اور جلد از جلد اکیڈمی کی ذمہ داری کسی اردو سے واقف فرد کو دے اور یہ بات یاد رکھے کہ مجلس اردو اکیڈمی سمیت تمام اقلیتی اداروں کے کام کاج پر نظر رکھے گی اور تمام معاملات کا تعاقب کرے گی ۔


حال ہی میں وزیر اعلی اروند کیجریوال اور نائب وزیر اعلی منیش سسودیا جو اردو اکیڈمی کے چیئرمین بھی ہیں ، نے اردو اکیڈمی کے ذمہ داروں کے ساتھ میٹنگ کی اردو اکیڈمی کے ایک ممبر کی طرف سے جو میٹنگ میں موجود تھے ، بتایا گیا کہ سرکار کی طرف سے اکیڈمی کو اردو ٹیچر کیلئے حال ہی میں نکالی گئی 917 پوسٹوں کو لے کر بیداری پیدا کرنے کے لیے کہا گیا ہے ۔

دہلی اردو اکیڈمی میں خالی پڑی ہیں 27 پوسٹ

دراصل 14جون کو مجلس دہلی نے ایک پریس کانفرنس میں دہلی حکومت اور اردو اکیڈمی دہلی کو لے کر بہت سی باتوں کا انکشاف کیا تھا اور الزام عائد کیا تھا کہ دہلی اردو اکیڈمی کا وائس چیئرمین ایک ایسے شخص کو بنا دیا گیا ہے ، جس کو اردو لکھنا پڑھنا نہیں آتا ۔ اس کے علاوہ اردو اکیڈمی کو بجٹ فنڈز ریلیز نہ کیے جانے ،  اردو شاعروں کو نظر انداز کیے جانے اور اردو مسودات کی کمیٹی سے منظوری کے باوجود  فنڈ کی کمی کے باعث شائع نہ کئے جانے سمیت کئی گڑبڑی  کے الزامات عائد کیے گئے تھے ۔ ساتھ ہی ساتھ اردو اکیڈمی میں 27 پوسٹوں کے خالی رہنے کا بھی سوال اٹھایا گیا تھا ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jun 18, 2021 08:53 PM IST