உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کولگام سے تعلق رکھنے والے دو کنبے کابل میں پھنسے، اہل خانہ نے مرکزی حکومت سے کیا بحفاظت واپسی کا مطالبہ کیا

    Youtube Video

    افغانستان (Afghanistan) پھر سے طالبان (Taliban) کے قبضے میں آچکا ہے۔ چاروں طرف افراتفری کا ماحول ہے۔ وادی کشمیر ضلع کولگام سے تعلق رکھنے والے دو کنبے افغانستان کی راجدھانی کابل میں پھنسے ہوئے ہیں۔

    • Share this:
      افغانستان Afghanistan war میں موجودہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور پورا ملک پریشان ہے کہ مستقبل میں کیا ہونے والا ہے۔ افغانستان (Afghanistan) پھر سے طالبان (Taliban) کے قبضے میں آچکا ہے۔ ملک کے صدر، نائب صدر اور زیادہ تر لیڈران ملک چھوڑ کر بھاگ چکے ہیں۔ چاروں طرف افراتفری کا ماحول ہے۔ عام لوگ بھی جان بچانے کے لئے ملک چھوڑنا چاہتے ہیں، مگر نہیں جا پا رہے ہیں۔ ان کے راستے بند ہیں، فلائٹس کینسل ہونے کے بعد بھی لوگ ایئر پورٹ اور رنوے پر جمے ہوئے ہیں۔ اس امید سے کہ شاید کوئی فلائٹ مل جائے۔ انہیں میں  وادی کشمیر ضلع کولگام سے تعلق رکھنے والے دو کنبے افغانستان کی راجدھانی کابل میں پھنسے ہوئے ہیں۔ حالات کے پیش نظر دونوں کنبوں کے ایل خانہ نے مرکزی حکومت سے ان کے بحفاظت گھر واپس لوٹنے کی مانگ کی ہے۔

      افغانستان میں عالم یہ ہے کہ اگر فلائٹ نہیں مل رہی، تو جن کے پاس کار ہے وہ اسی پر ہی ملک چھوڑنے کے لئے نکل پڑا ہے جن کے پاس ایسی سواری نہیں ہے وہ پیدل ہی نکلنے کو مجبور ہے۔ اس دوران بینکوں اور اے ٹی ایم سے پیسے نکالنے کے لئے بھیڑ جمع ہے۔ لوگ لمبی قطاروں میں لگے ہوئے ہیں۔ کابل کے حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر لوگ فلائٹ کی امید میں رکے ہوئے ہیں۔

      کابل (Kabul) میں کئی مقامات پر گولی باری اور لوٹ پاٹ کی خبریں ہیں۔ سرکاری ایجنسیوں کے دفاتر میں لوٹ پاٹ ہوئی ہے۔ طالبان (Taliban) کا کہنا ہے کہ ہمارے نام پر شرپسند عناصر نے لوٹ پاٹ کی ہے۔ طالبان نے کابل، قندھار اور مزار شریف جیسے بڑے شہروں میں ہر چوراہے پر چیک پوسٹ بنا دی ہے۔ ان پر طالبانی جنگجو تعینات ہیں، جو یہاں سے گزرنے والے ہر شخص کی تلاشی لینے کے بعد ہی اسے آگے جانے دے رہے ہیں۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: