ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

چین کی ناپاک چال سے نمٹنے کیلئے ہندوستان کی لداخ میں پوری تیاری ، 15 ہزار 'خاص جوان' کئے تعینات

Ladakh Front India vs China: ہندوستان نے چین کی کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کیلئے مشرقی لداخ سیکٹر میں تقریبا 50000 فوجیوں کو تعینات کیا ہے ۔

  • Share this:
چین کی ناپاک چال سے نمٹنے کیلئے ہندوستان کی لداخ میں پوری تیاری ، 15 ہزار 'خاص جوان' کئے تعینات
چین کی ناپاک چال سے نمٹنے کیلئے ہندوستان کی لداخ میں پوری تیاری ، 15 ہزار 'خاص جوان' کئے تعینات۔ تصویر : اے این آئی ۔

نئی دہلی : مشرقی لداخ میں چین کی کسی بھی حماقت کا جواب دینے کیلئے ہندوستانی فوج نے وہاں اپنی خاص یونٹ کی تعیناتی کردی ہے۔ چین کی فوج سے نمٹنے کیلئے ہندوستانی فوج نے کچھ مہینے پہلے مشرقی لداخ علاقہ میں حقیقی لائن آف کنٹرول پر شمالی کمان علاقہ میں دہشت گرد مخالف مہمات میں شامل یونٹوں کو تعینات کیا ہے ۔


دہشت گردی مخالف محکمہ کو شمالی کمان علاقہ کے اندرونی علاقوں میں جاری آپریشن سے ہٹا دیا گیا تھا اور کئی مہینے پہلے لداخ سیکٹر میں تعینات کیا گیا تھا ۔ سرکاری ذرائع نے اے این آئی کو بتایا کہ چین کے ذریعہ وہاں جارحیت دکھانے کی کسی بھی ممکنہ کوشش سے نمٹنے کیلئے ایک فوجی یونٹ ( تقریبا 15000 اہلکار) تیار کرکے اس کو دہشت گردی مخالف مہمات سے ہٹاکر لداخ علاقہ میں لے جایا گیا ہے ۔


اس فوجی یونٹ کی سرگرمیوں نے فوج کو شمالی سرحدوں پر آپریشن کیلئے سونپے گئے اضافی کاموں کی دیکھ ریکھ کرنے میں مدد کی ہے ۔ سوگر سیکٹر میں تعینات ریزو فارمیشن کے جوان اونچے پہاڑوں پر جنگ کیلئے تربیت یافتہ ہیں اور ہر سال لداخ کے ٹھنڈے ریگستانی علاقوں میں جنگ کے کھیل منعقد کرتے ہیں ۔ مشرقی لداخ میں کشیدگی بڑھنے کے ساتھ ہی گزشتہ سال سے وہ چین کے ساتھ اختلافات میں سرگرم طور پر شامل رہے ہیں ۔ اگلے محاذوں کیلئے نئی فوجی یونٹ کی تشکیل کے بعد جو کمی پیدا ہوئی تھی ، فوج نے اس کو اپنے پاس دستیاب وسائل کا استعمال کرکے پر کردیا ہے ۔


ہندوستان نے مشرقی لداخ سیکٹر میں تقریبا 50000 فوجیوں کو تعینات کیا ہے اور وہاں اپنی طاقت کی سطح کو دوگنا سے زیادہ بڑھانے میں مدد کی ہے ۔ چین کی جارحیت کو دیکھتے ہوئے لہہ میں 14 کورپس کے پاس اب دو ڈویزن تعینات ہیں جو کارو میں واقع تین ڈویزن سمیت ایل اے سی کی نگرانی کرتے ہیں ۔ کچھ اضافی بختربند یونٹوں کو اس علاقہ میں تعینات کیا گیا ہے ، جہاں گزشتہ سال سے کثیر تعداد میں فوجی جوانوں کی چہل قدمی دیکھی جارہی ہے ۔ گزشتہ سال اپریل ۔ مئی میں چینی فوج نے مشرقی لداخ میں تیزی سے اپنے فوجیوں کو بھیجا اور کئی مقامات پر دراندازی کی تھی ۔

مشرقی لداخ میں کشیدگی کے پیش نظر حکومت ہند نے سخت رخ اختیار کیا ہے اور چینیوں کو قابو میں رکھنے کیلئے وہاں تقریبا اتنے ہی فوجیوں کو تعینات کیا ہے ، جتنی تعداد میں پڑوسی ملک کے فوجی وہاں موجود ہیں ۔ مشرقی لداخ میں صورتحال اس حد تک خراب ہوگئی تھی کہ چار دہائیوں سے زیادہ وقت کے بعد چین کی سرحد پر گولیاں چلائی گئیں اور گزشتہ سال 15 جون کو گلوان وادی میں چین کی فوج کے ساتھ جھڑپ میں 20 ہندوستانی فوجی جوان شہید ہوگئے تھے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 24, 2021 11:14 PM IST