اپنا ضلع منتخب کریں۔

    لکھیم پور کھیری معاملہ: آشیش مشراکوعبوری ضمانت، جانیےاب تک کی کیاہیں تازہ ترین تفصیلات

    آشیش مشراکوعبوری ضمانت

    آشیش مشراکوعبوری ضمانت

    الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے گزشتہ سال 26 جولائی کو آشیش مشرا کی ضمانت کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔ انہوں نے ہائی کورٹ کے حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi, India
    • Share this:
      سپریم کورٹ نے بدھ کو مرکزی وزیر اجے کمار مشرا (Ajay Kumar Mishra) کے بیٹے آشیش مشرا (Ashish Mishra) کو 2021 کے لکھیم پور کھیری تشدد کیس میں آٹھ ہفتوں کی عبوری ضمانت دے دی۔ جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جے کے مہیشوری کی بنچ نے ہدایت دی کہ آشیش عبوری ضمانت کی مدت کے دوران نہ تو اتر پردیش میں رہے اور نہ ہی دہلی میں۔

      عدالت نے یہ بھی کہا کہ وہ مقدمے کی سماعت کی نگرانی کرے گی۔ 3 اکتوبر 2021 کو لکھیم پور کھیری ضلع کے ٹکونیا میں آٹھ لوگ مارے گئے تھے جہاں اس وقت تشدد پھوٹ پڑا جب کسان اس وقت کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ کے علاقے کے دورے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ اتر پردیش پولیس کی ایف آئی آر کے مطابق، چار کسانوں کو ایک ایس یو وی نے کچل دیا جس میں آشیش بیٹھا ہوا تھا۔

      اس واقعہ کے بعد مشتعل کسانوں نے ایس یو وی کے ڈرائیور اور بی جے پی کے دو کارکنوں کو مبینہ طور پر پیٹ پیٹ کر مار ڈالا۔ تشدد میں ایک صحافی بھی مارا گیا۔ الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے گزشتہ سال 26 جولائی کو آشیش مشرا کی ضمانت کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔ انہوں نے ہائی کورٹ کے حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

      سابق اترپردیش کے لکھیم پور کھیری میں کسانوں کے ساتھ ہوئے مظالم کے خلاف مدھیہ پردیش میں بھی جگہ جگہ احتجاج کیا گیا تھا۔ کسانوں کے ساتھ نہ صرف کمیونسٹ پارٹی بلکہ کانگریس نے راج بھون کا گھیراؤ کر کے احتجاج کیا تھا۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      انھوں نے کہا کہ احتجاجی مظاہرین نے حکومت سے کسانوں کی ہلاکت کے گنہگاروں کو پھانسی کی سز ا دینے کے ساتھ متاثرین کے اہل خانہ کو دو دو کروڑ کا معاوضہ دینے کے ساتھ ملازمت دینے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔

      لکھیم پور کھیری معاملے سے متعلق راج بھون کا گھیراؤ کرنے والی کانگریس پارٹی کے لیڈر اور بھوپال ایم ایل اے عارف مسعود نے کہا تھا کہ بی جے پی حکومت نے کسانوں کے ساتھ ظلم کی ساری حدیں پار کردی ہیں اور جب اس ظلم کے خلاف کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی متاثرین سے ملاقات کے لیے جاتی ہیں تو ان کے ساتھ پولیس کے ذریعہ نازیبا سلوک کیا جاتا ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: