உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    لکھیم پور سانحہ، سپریم کورٹ نے یوپی پولیس کی سرزنش کی اور کہا، ہم چاہتے تحقیقات میں انصاف اور آزادی

    Youtube Video

    لکھیم پور کھیری قتل عام معاملہ میں پیر کو ایک بار پھر اتر پردیش حکومت کو پھٹکار لگائی اور کہا کہ وہ اب تک کی تحقیقات سے مطمئن نہیں ہے اور وہ چارج شیٹ داخل ہونے تک ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی نگرانی میں انکوائری کروانا چاہتی ہے۔

    • Share this:
      Lakhimpur Kheri Incident: ملک کی عدالت عظمیٰ نے لکھیم پور کھیری قتل عام معاملہ میں پیر کو ایک بار پھر اتر پردیش حکومت کو پھٹکار لگائی اور کہا کہ وہ اب تک کی تحقیقات سے مطمئن نہیں ہے اور وہ چارج شیٹ داخل ہونے تک ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی نگرانی میں انکوائری کروانا چاہتی ہے۔ چیف جسٹس این وی رمن ، جسٹس سوریہ کانت اور ہیما کوہلی کی ڈویژن بنچ نے پی آئی ایل کی سماعت کرتے ہوئے حکومت کی ایس آئی ٹی جانچ کو ’ڈھیلا ڈھالا‘ قرار دیا اور کہا کہ پہلی نظر سے ایسا لگتا ہے کہ ملزمین کو بچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
      عدالت عظمیٰ نے سماعت کے دوران کئی سوالات اٹھائے اور کہا کہ اتر پردیش حکومت کی طرف سے جانچ توقع کے مطابق نہیں ہے۔ حکومت کی طرف سے پیش کی گئی پیش رفت رپورٹ میں گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے کی معلومات کے علاوہ اس معاملے میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ بنچ نے پوچھا کہ کلیدی ملزم آشیش کے علاوہ دیگر ملزمین کے موبائل فون کیوں ضبط نہیں کئے گئے۔ انہوں نے دیگر ملزمان کے موبائل فون ضبط نہ کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔

      واضح ہو کہ سپریم کورٹ آج اتر پردیش کے لکھیم پور کھیری میں تین اکتوبر کو ہوئے سانحہ سے متعلق کیس کی سماعت جاری ہے۔ اس سانحہ میں چار کسانوں سمیت آٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ چیف جسٹس این وی رمنا، جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس ہیما کوہلی کی بنچ اس معاملے کی سماعت کی۔ عدالت نے چھبیس اکتوبر کو اتر پردیش حکومت کو لکھیم پور کھیری سانحہ کیس میں گواہوں کو تحفظ فراہم کرنے کی ہدایت دی تھی۔بتادیں کہ دو وکلاء نے چیف جسٹس کو خط لکھ کر لکھیم پور کھیری معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ اسی پس منظر میں عدالت اس معاملے کی سماعت ہوئی۔

      Published by:Sana Naeem
      First published: