اپنا ضلع منتخب کریں۔

    ذراعت کے جدید تقاضے، کسانوں کے مسائل اور ہماری ذمہ داریاں

     ہمارے ملک میں دیگر شعبوں کے مقابلے میں ۵۸  فیصد سے زیادہ لوگوں کو روزی روٹی فراہم کرتی ہے ، غیر یقینی موسم کے خطرات ، بارش سے متاثر ہونے والے بڑے علاقے، کیڑوں اور دیگر فصلی بیماریوں کی وجہ سے زراعت کی پیداوار انتہائی غیر مستحکم نظر آتی ہے ۔

    ہمارے ملک میں دیگر شعبوں کے مقابلے میں ۵۸ فیصد سے زیادہ لوگوں کو روزی روٹی فراہم کرتی ہے ، غیر یقینی موسم کے خطرات ، بارش سے متاثر ہونے والے بڑے علاقے، کیڑوں اور دیگر فصلی بیماریوں کی وجہ سے زراعت کی پیداوار انتہائی غیر مستحکم نظر آتی ہے ۔

    ہمارے ملک میں دیگر شعبوں کے مقابلے میں ۵۸ فیصد سے زیادہ لوگوں کو روزی روٹی فراہم کرتی ہے ، غیر یقینی موسم کے خطرات ، بارش سے متاثر ہونے والے بڑے علاقے، کیڑوں اور دیگر فصلی بیماریوں کی وجہ سے زراعت کی پیداوار انتہائی غیر مستحکم نظر آتی ہے ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Lucknow, India
    • Share this:
    ہندوستان جیسے زراعتی فوقیت والے ملک میں کاشت کاری کے جدید تقاضے اپنائے جانے کی جو ضرورت ہے اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ ہمارے ملک میں دیگر شعبوں کے مقابلے میں ۵۸  فیصد سے زیادہ لوگوں کو روزی روٹی فراہم کرتی ہے ، غیر یقینی موسم کے خطرات ، بارش سے متاثر ہونے والے بڑے علاقے، کیڑوں اور دیگر فصلی بیماریوں کی وجہ سے زراعت کی پیداوار انتہائی غیر مستحکم نظر آتی ہے لیکن اس ضمن میں کسانوں کو آگاہ کرنے انہیں کاشت کاری کی جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے جو تحریکات چلائی جارہی ہیں اور جن اداروں کی جانب سے چلائی جارہی ہیں  ان میں کرسی روڈ واقع لکھنئو کی انٹیگرل یونیورسٹی کانام بھی پیش پیش ہے انٹیگرل انسٹی ٹیوٹ آف ایگریکلچر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے سربراہوں ، اساتذہ اور طلبا نے جو مشن جو تحریک شروع کی اس سے غیر معمولی نتائج بھی سامنے آرہے ہیں اور  سرکاری منصوبوں اور اسکیموں کے تئیں بھی لوگ بیدار ہو رہے ہیں۔

    اس حوالے سے پروفیسر ( انجینئر ) سید عقیل صاحب کہتے ہیں کہ انٹیگرل یونیورسٹی کے مذکورہ شعبے کے لوگ قرب و جوار اور دور دراز کے گاؤں اور مضافات و قصبات میں جا کر کسانوں ، کاشتکاروں اور زراعتی میدانوں سے جڑے لوگوں کو جو معلومات فراہم کر رہے ہیں۔ وہ نہایت ہی مفید اور کارگر ثابت ہورہی ہیں ساتھ ہی حکومت کی ان اسکیموں اور منصوبوں کی بھی تشہیر ہورہی ہے جن کو آزادی  کے امرت مہوتسو کے تحت کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے شروع کیا گیا تھا -جیتے گہیرا جوتے کھیت،پرے بیج، پھل تیتے دیت۔۔یعنی کھیت کی جُتائی جتنی گہری کی جاتی ہے، بیج بونے پر پیداوار بھی اُتنی ہی زیادہ ہوتی ہے۔ یہ کہاوتیں، بھارت کی زراعت کے سیکڑوں سال پرانے تجربات کے بعد بنی ہیں۔ یہ بتاتی ہیں کہ بھارتیہ زراعت ہمیشہ سے کتنی سائنسی رہی ہے۔

    پروفیسرفاریہ فاطمہ اور ڈاکٹر شپریا یادو نے نوی کوٹوا نندی گاوں میں اپنے طلبا و طالبات کے ساتھ پہنچ کر ایک بار پھر کسانوں سے رابطہ کر انہیں ضروری معلومات فراہم کیں پروفیسر فاریہ کہتی ہیں کہ زراعت  اور سائنس کے اس تال میل کا مسلسل بڑھتے رہنا، اگلی  صدی کے بھارت کے لئے بہت ضروری ہے یہ وہ وقت ہے، جب ہمیں بیک ٹو بیسک اور مارچ فار فیوچر دونوں میں توازن قائم کرنا ہے۔ جب ہم بیک ٹو بیسک کہتے تب ہماری مراد  روایتی زراعت کی اُس طاقت سے ہوتی ہے، جس میں آج کے زیادہ تر چیلنجوں سے جڑا تحفظاتی نظام  ہے ۔روایتی طور سے ہم زارعت، ماہی گیری اور مویشی پروری ایک ساتھ کرتے آئے  ہیں۔ اس کے علاوہ ایک ساتھ ایک ہی کھیت میں  ، ایک وقت میں کئی فصلوں کو بھی اُگایا جانا بھی اہم ہے یعنی پہلے ہمارے ملک کی زراعت کثیر رُخی تھی، لیکن یہ رفتہ رفتہ یک رُخی ہوتی چلی گئی۔



    الگ الگ حالات کی وجہ سے کسان ایک ہی فصل اُگا نے لگا ۔اِس حالت کو بھی ہمیں مل کر بدلنا ہی ہوگا۔ آج جب موسمیاتی تبدیلی کی چنوتی بڑھ رہی ہے، تو ہمیں اپنے کاموں کی رفتار کو بھی بڑھانا ہوگا۔امریکہ، برطانیہ، نیدرلینڈ، سی جی آئی اے آر، آسٹریلیا، جرمنی اور اقوام متحدہ کے بین الاقوامی ماہرین نے ایگرو ایکولوجی (زرعی ماحولیات) کے شعبے میں ہندوستان کی شاندار قیادت کا اعتراف کیا۔ ایگروایکولوجی وہ سائنس ہے جس میں پائیدار نتائج کے حصول کے لئے زرعی شعبے میں ایکولوجی کا استعمال کیا جاتا ہے، جو خشک سالی یا سیلاب اور جراثیم جیسے ماحولیاتی دھچکوں کے مقابلے میں زیادہ لچیلے پن کا مظاہرہ کرتی ہے۔ اس کے باوجود یہ نتیجہ خیز ہے اور کسانوں کے کسب معاش اور بالخصوص قدرتی زراعت کے عمل میں تعاون دیتی ہے، جو کہ ایگروایکولوجی کی ہی ایک شکل ہے۔ انٹیگرل یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف ایگریکلچر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں جدید تعلیمی نظام کے ذریعے پڑھایا جارہاہے کہ کس طرح اس میدان میں انقلاب برپا ہوسکتے ہیں ۔قدرتی زراعت مصنوعی کھادوں اور جراثیم کش ادویات کے استعمال سے اعتراض کرتی ہے اور زمین کے اندر مفید آرگینزم کے احیاء پر توجہ مرکوز کرتی ہے، جس سے زرخیزی اور پودوں کی اچھی غذائیت میں مدد ملتی ہے۔ ماہرین نے کہا کہ اچھی طرح سے پروان چڑھائے گئے پودوں کا نتیجہ اچھی طرح پروان چڑھائے گئے انسانوں کی شکل میں سامنے آتا ہے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: