உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    آرٹیکل 370 ہٹنےکے بعد جموں وکشمیرکا حال کچھ ایسا ہے، دیکھیں ویڈیو

    جموں وکشمیرمیں دفعہ 370 اوردفعہ 35 اے ختم کئے جانے کے بعد وہاں کے حالات بے حد عام بتائے جارہے ہیں۔

    جموں وکشمیرمیں دفعہ 370 اوردفعہ 35 اے ختم کئے جانے کے بعد وہاں کے حالات بے حد عام بتائے جارہے ہیں۔

    جموں وکشمیرسے دفعہ 370 اوردفعہ 35 اے ہٹائے جانے کے بعد وہاں کے حالات دکھاتے ہوئےتقریباً 38 سیکنڈ کے اس ویڈیومیں دیکھا جاسکتا ہے کہ سری نگرمیں گاڑیوں کی آمد ورفت ہورہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی پیدل سفربھی عام طورپردیکھنے کو مل رہی ہے۔

    • Share this:
      جموں وکشمیرمیں دفعہ 370 (آرٹیکل 370) اوردفعہ 35 اے ختم کئےجانے کےبعد وہاں کے حالات بے حد عام بتائے جارہے ہیں۔ خوف کے سائے میں جموں وکشمیرفی الحال خاموش نظرآرہا ہے۔ نیوزایجنسی اے این آئی نےایک ویڈیوجاری کیا ہے۔ جس میں لوگ عام طریقے سے سڑکوں پرآتے جاتے ہوئے نظرآرہے ہیں۔

      لوگ اپنے ضروری کام کےلئےگھروں سے باہرنکل رہے ہیں۔ اس کےساتھ ہی ریہڑی پٹری پردوکان لگا کرروزہ مرہ کی کمائی کرنے والے بھی سڑک پرنظرآرہے ہیں۔  اے این آئی کی طرف سے جاری کئے گئے تقریباً 38 سیکنڈ کے ویڈیومیں دیکھا جاسکتا ہے کہ گاڑیوں کی آمدورفت عام طورپرجاری ہے۔ اس کے ساتھ ہی پیدل سفربھی لوگ عام طریقےسے کررہے ہیں۔

      قابل ذکرہے کہ وزیرداخلہ امت شاہ نے پیرکوراجیہ سبھا میں جموں وکشمیرکولےکرحکومت کا 'سنکلپ پتر' (قرارداد) پیش کیا۔ امت شاہ نےکہا تھا کہ جموں وکشمیرکوخصوصی ریاست کا درجہ دینے والے آرٹیکل 370 میں بڑی تبدیلی کی ہے۔ اب صرف آرٹیکل 370 کا سیکشن اے نافذ رہےگا۔ حالانکہ کانگریس سمیت کئی اپوزیشن جماعتوں نے اس کی زبردست طریقے سے مخالفت بھی کی۔ اس کے علاوہ کچھ اپوزیشن جماعتیں اس معاملے میں حکومت کے موقف سے بھی اتفاق کیا ہے۔



      ریاست کی تشکیل نوکا اعلان

      راجیہ سبھا میں پیرکوپیش کئے گئے بل کے مطابق باقی سیکشن فوری طورپرختم کردیئے گئے ہیں۔ وزیرداخلہ نے اس کے ساتھ ہی آرٹیکل 35 اے بھی ہٹائے جانے کا اعلان کیا۔ امت شاہ نےکشمیرکی تشکیل نوتجویزبھی پیش کی۔ اب جموں وکشمیرمرکزکےزیرانتظام والی ریاست ہوگی جبکہ لداخ کوبھی الگ کرکے مرکزکے زیرانتظام خطہ بنایا گیا ہے۔

      منگل کو لوک سبھا میں پاس ہوا بل

      منگل کوآرٹیکل 370 اور35 اے کےساتھ ساتھ ریاست کی تشکیل نوکا بل لوک سبھا میں بھی پاس ہوگیا تھا۔ بدھ کوصدرجمہوریہ رام ناتھ کووند نےآئین کے دفعہ 370 کے التزام کو منسوخ کرنے کی اجازت دی۔ ایک آفیشیل بیان میں کہا گیا ہے، 'ہندوستانی آئین کےدفعہ 370 کے سیکشن (1) کےساتھ پڑھےگئے دفعہ 370 کے سیکشن (3) کےذریعہ فراہم کردہ اختیارات کےتحت، صدرجمہوریہ، پارلیمنٹ کی سفارش پر6 اگست سے یہ اعلان کرتے ہیں کہ 2019 میں دفعہ 370 کے سبھی سیکشن منسوخ ہوجائیں گے'۔

      وہیں جموں وکشمیرکےلئے خصوصی درجہ کومنسوخ کرنےکےلئےعدالت میں پہلا قانونی چیلنج ملا ہے۔ وکیل ایم ایل شرما کے ذریعہ دائرعرضی میں صدرجمہوریہ کے حکم کو'غیر آئینی' قراردیا اورکہا کہ حکومت کودفعہ میں ترمیم کےلئے پارلیمانی طریقہ اپنانا چاہئے تھا۔
      First published: