உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اے ایم یو کے جے این میڈیکل کالج کی تاریخ پر مبنی اہم کتاب 'All about the JNMC, AMU' کا اجراء

    یہ کتاب طلبہ کی نئی نسل کو ان کی مادر علمی کے شاندار ماضی سے متعارف کرائے گی“۔ رسم اجراء تقریب کی صدارت کرتے ہوئے اے ایم یو وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے کہا اس کتاب کے اجراء میں کووِڈ وبا کی وجہ سے ایک سال کی تاخیر ہوئی۔

    یہ کتاب طلبہ کی نئی نسل کو ان کی مادر علمی کے شاندار ماضی سے متعارف کرائے گی“۔ رسم اجراء تقریب کی صدارت کرتے ہوئے اے ایم یو وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے کہا اس کتاب کے اجراء میں کووِڈ وبا کی وجہ سے ایک سال کی تاخیر ہوئی۔

    یہ کتاب طلبہ کی نئی نسل کو ان کی مادر علمی کے شاندار ماضی سے متعارف کرائے گی“۔ رسم اجراء تقریب کی صدارت کرتے ہوئے اے ایم یو وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے کہا اس کتاب کے اجراء میں کووِڈ وبا کی وجہ سے ایک سال کی تاخیر ہوئی۔

    • Share this:
    علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے ہیلتھ سروسیز کے سی ایم او ڈاکٹر شارق عقیل کی کتاب ”آل اباؤٹ دَ جے این ایم سی، اے ایم یو، علی گڑھ، اے ڈریم دیٹ کیم ٹرو“  (All about the JNMC, AMU) کا اجراء وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے آج ایک خصوصی تقریب میں کیا، جس میں میڈیکل کالج کی تاسیس و ترقی کی دلچسپ تاریخ اور بانیان کی گرانقدر قربانیوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر شارق عقیل کی کتاب پانچ دہائیوں سے زیادہ طویل دور کی تاریخ، فیکلٹی ممبران کی کاوشوں کا ذکر اور طلبہ کی کہانیاں بیان کرتی ہے جنھوں نے جے این میڈیکل کالج کو ایک معروف ادارے کے طور پر اعتبار بخشا ہے۔شارق عقیل نے کہا ”اے ایم یو میں میڈیکل کالج شروع کرنے کا عظیم مشن ملک کی تاریخ کا ایک نیا باب تھا اور یہ ہمیشہ محسوس کیا گیا کہ میڈیکل کالج کے قیام کے لئے کی جانے والی جدوجہد کو محبت و خلوص اور عزم کے ساتھ دستاویزی شکل دینے کی ضرورت ہے اور آخر کار یہ کام انجام کو پہنچا جب وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے مجھے اس کتاب کو قلم بند کرنے کی ذمہ داری سونپی“۔ انہوں نے کہا: ”میں نے ابتدائی دور کے اساتذہ کی 80 سے زیادہ قیمتی تصاویر جمع کیں اور 1960 کی دہائی سے لے کر آج تک کے فیکلٹی ممبران اور ممتاز سابق طلبہ کی سرگزشت لکھی جنہوں نے تعلیم اور صحت کے شعبے میں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ امید ہے کہ اس کتاب کو پوری دنیا میں موجود اے ایم یو برادری پڑھنا پسند کرے گی“۔ شارق عقیل نے مزید کہا ”یہ زندہ قوموں کی نشانی ہے کہ وہ اپنی تاریخ کو دستاویزی شکل دیتی ہیں۔

    یہ کتاب طلبہ کی نئی نسل کو ان کی مادر علمی کے شاندار ماضی سے متعارف کرائے گی“۔ رسم اجراء تقریب کی صدارت کرتے ہوئے اے ایم یو وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے کہا اس کتاب کے اجراء میں کووِڈ وبا کی وجہ سے ایک سال کی تاخیر ہوئی۔ شکر ہے کہ ہم آج یہاں جوش و جذبہ کے ساتھ اس تقریب کے گواہ بن رہے ہیں۔انھوں نے کہا ”تاریخ کو دستاویزی شکل دینا اہمیت رکھتا ہے اور یونیورسٹی کے پبلیکیشن ڈویژن کی طرف سے شائع ہونے والی دیگر کتابوں کی طرح یہ کتاب بھی بہت اہمیت رکھتی ہے جو ہمیں اپنے شاندار ماضی کی تفصیلات بھی فراہم کرے گی۔ مصنف نے طلبہ کے سبھی بیچوں اور تاریخ وار شروع ہونے والی مختلف سہولیات کی تفصیلات اور مختلف پوسٹ گریجویٹ کورسز کی ابتدا کی تاریخ وغیرہ کا احاطہ کیا ہے“۔وائس چانسلر نے کہا، ”یہ کتاب ہمیں بتاتی ہے کہ کس طرح جے این ایم سی بایوکیمسٹری شعبہ کی قدیم عمارت میں شروع ہوا اور پھر ایک علیحدہ میڈیکل کالج کی عمارت میں منتقل ہوا“۔

    انھوں نے مزید کہا کہ اس طرح کی کتابوں کی اشاعت کے ساتھ یونیورسٹی کا پبلیکیشن ڈویژن قابل تعریف کام کر رہا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ ہماری کتابیں اب آن لائن خریداری کے لئے بھی دستیاب ہیں اور دستاویزات و مخطوطات کے تحفظ اور ڈجیٹائزیشن کا کام مولانا آزاد لائبریری اور سرسید اکیڈمی دونوں میں کامیابی کے ساتھ جاری ہے“۔پروفیسر عبدالرحیم قدوائی (ڈائریکٹر، خلیق احمد نظامی سنٹر فار قرآنک اسٹڈیز) نے کہا کہ ڈاکٹر شارق عقیل کی کتاب اے ایم یو برادری کے مثبت نقطہ نظر، ان کی لچک اور قوم کی تعمیر میں ان کے کردار کی گواہی دیتی ہے۔ پروفیسر راکیش بھارگو (ڈین، فیکلٹی آف میڈیسن) نے کہاکہ اس کتاب کو ہرسال اپڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ کتاب بتاتی ہے کہ کس طرح جے این میڈیکل کالج نے کمزور معاشی طبقے کے مریضوں کو اس خطہ میں بہترین صحت خدمات فراہم کی ہیں۔

    پروفیسر شاہد علی صدیقی (پرنسپل، جے این میڈیکل کالج) نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ ادارے راتوں رات نہیں بن جاتے اور تاریخی ریکارڈ کو کتابوں میں مرتب کرنا آسان کام نہیں ہے۔پروفیسر زہرہ محسن (شعبہ امراض نسواں) اور پروفیسر محمد اطہر انصاری (شعبہ کمیونٹی میڈیسن) نے جاری ہونے والی کتاب پر مختصر تبصرے کئے جس میں انہوں نے بتایا کہ کس طرح اس کتاب نے جے این میڈیکل کالج سے وابستہ بہت سی یادوں کو تازہ کردیا ہے۔ڈاکٹر فائزہ عباسی (ڈائریکٹر، یو جی سی ایچ آر ڈی سنٹر) نے پروگرام کی نظامت کی اور سرسید اکیڈمی/ پبلیکشن ڈویژن کے ڈپٹی ڈائرکٹر ڈاکٹر محمد شاہد نے شکریہ کے کلمات ادا کئے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: