ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

مسلم پرسنل اور لا کمیشن کے مابین میٹنگ ہنگامہ خیز، یونیافارم سول کوڈ کا جِن پھر باہر

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور لا کمیشن کی میٹنگ خوشگوار ماحول میں منعقد ہوئی۔ میٹنگ میں طلاق ثلاثہ، تعدد ازدواج اور حلالہ پر بات کئے جانے کی امید کی جارہی تھی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔

  • Share this:
مسلم پرسنل اور لا کمیشن کے مابین میٹنگ ہنگامہ خیز، یونیافارم سول کوڈ کا جِن پھر باہر
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور لا کمیشن کی میٹنگ خوشگوار ماحول میں منعقد ہوئی۔ میٹنگ میں طلاق ثلاثہ، تعدد ازدواج اور حلالہ پر بات کئے جانے کی امید کی جارہی تھی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔

نئی دہلی: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور لا کمیشن کی میٹنگ خوشگوار ماحول میں منعقد ہوئی۔ میٹنگ میں طلاق ثلاثہ، تعدد ازدواج اور حلالہ پر بات کئے جانے کی امید کی جارہی تھی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔


دراصل لا کمیشن اور مسلم پرسنل لا بورڈ کے درمیان ہوئی  میٹنگ سے یہ بات نکل کر سامنے آئی کہ لا کمیشن نے یونیفارم سول کوڈ کی جانب قدم بڑھا دیا ہے۔  کمیشن کے چیئرمین بلبیر سنگھ نے آج مسلم پرسنل لا بورڈ کو غیر رسمی ملاقات کے لئے مدعو کیا تھا، لیکن اس میٹنگ میں یونیفارم سول کوڈ کے ارد گرد ہی بات  ہوئی نظرآئی۔


میٹنگ میں لا کمیشن کے چیئرمین بلبیر سنگھ نے 4 سوال اٹھائے، جس سے متعلق مسلم پرسنل لا بورڈ  اپنے منطق پیش کرتی نظر آئی۔


بلبیر سنگھ نے کہا کہ میں نہیں کہتا کہ مسلم پرسنل میں مکمل تبدیلی کی جائے، لیکن کچھ تبدیلیاں کی جانی چاہئے۔  جینڈر جسٹس (صنفی انصاف) میں آئین جو ہمیں دستوری حق دیتا ہے کہ لڑکوں اور لڑکیوں کے ساتھ برابری  اور انصاف کا حق دیا جاتا ہے تو پھر لڑکی کو آدھا حصہ کیوں دیاجاتا ہے۔ یہ معاملہ آج نہیں تو کل عدالت میں اٹھے گا، اس لئےاس پر تبدیلی کی جانی چاہئے۔

بلبیر سنگھ نے پہلا سوال کیا کہ کیا دادا کی زندگی میں بیٹے کے مرجانے کے بعد پوتے کو جائیداد میں حصہ کیوں نہیں ملتا؟

دوسرا سوال لڑکی کو لڑکوں کے مقابلے نصف حصہ کیوں ملتا ہے؟ جنرل جسٹس کے سامنے کس طرح اس کو ٹھیک کہا جاسکتاہے؟

تیسر سوال اڈاپشن یعنی گود لینے کے معاملے میں اسلام میں کیو ں پابندی ہے؟

چوتھا سوال یہ ہے کہ ہندو لا میں باپ کی زندگی میں لڑکوں میں جائیداد تقسیم کردی جاتی ہے، لیکن اسلام میں باپ کے مرجانے کے بعد ہی جائیداد تقسیم ہوتی ہے، ایسا کیوں ہے؟

مسلم پرسنل لا بورڈ نے کمیشن کو اپنا جواب  تحریری طور پر دینے کافیصلہ کیا ہے، لیکن بورڈ نے واضح کردیا ہے کہ اس کو شریعت میں تبدیلی منظور نہیں ہے۔

میٹنگ کے دوران بلبیر سنگھ نے یہ تبصرہ بھی کیا کہ اسلام میں ایک تہائی سے زیادہ وصیت نہ کرنے کا قانون ہے، اس کو دوسرے پرسنل لا جیسے ہندو پرسنل لا میں بھی نافذ ہونا چاہئے۔ اب بورڈ پہلے تحریری طور پر جواب دے گا۔ اس کے لئے عید کے بعد میٹنگ ہوگی۔

بورڈ اور کمیشن کی میٹنگ میں چھوٹی موٹی تبدیلی کی بات کمیشن کے چیئرمین جسٹس بلبیر سنگھ کرتے نظرآئے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کمیشن ان ایشوز پر پرسنل لا بورڈ کی رائے جاننا چاہتا ہے یا پھر کمیشن سول کوڈ کا روڈ میپ تیار کررہا ہے۔

خرم شہزاد کی رپورٹ

 
First published: May 21, 2018 11:28 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading