ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اتر پردیش میں لو جہاد پر قانون: ضرورت یا سازش؟

لو جہاد کے تعلق سے اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے مسلسل بیانات اور احکامات اور ان احکامات کی روشنی میں وزارتِ داخلہ کے ذریعے لو جہاد کے لئے بنائے جارہے قانونی مسودے کو محکمہ قانون و انصاف کو بھیجے جانے پر سماج میں بے چینی محسوس کی جارہی ہے۔

  • Share this:
اتر پردیش میں لو جہاد پر قانون: ضرورت یا سازش؟
وزارتِ داخلہ کے ذریعے لو جہاد کے لئے بنائے جارہے قانونی مسودے کو محکمہ قانون و انصاف کو بھیجے جانے پر سماج میں بے چینی محسوس کی جارہی ہے

لکھنئو۔ اترپردیش میں لو جہاد پر بنائے جارہے قانون کے سیاسی منظر و پس منظر کے حوالے سے جو بیانات سامنے آرہے ہیں وہ حیرت انگیز بھی ہیں اور قابل غور بھی۔ اس تعلق سے اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے مسلسل بیانات اور احکامات اور ان احکامات کی روشنی میں وزارتِ داخلہ کے ذریعے  لو جہاد کے لئے بنائے جارہے قانونی مسودے کو محکمہ قانون و انصاف کو بھیجے جانے پر سماج میں بے چینی محسوس کی جارہی ہے۔ اس سلسلے میں مختلف شعبہ ہائے حیات کے لوگوں کے نظریات بھی مختلف ہیں تاہم جس تیزی اور جس طرح سے اس ضمن میں حکومت نے پیش رفت کی ہے ، بالخصوص وزیر اعلیٰ کی جانب سے بیانات دئے گئے ہیں ان کو لے کر لوگ مشکوک  و مضطرب ہیں اور اس حکمت عملی کے پیچھے ایک مخصوص طبقے کے لوگوں کو زد و کوب کرنے کی سازش دیکھ رہے ہیں۔


معروف عالم دین مولانا علی حسین قمی نے کہا ہے کہ محبت کوئی گناہ نہیں۔ اگر مختلف مذاہب کے بالغ لوگ ایک دوسرے سے محبت اور شادی کرکے خوشگوار زندگی گزارتے ہیں تو یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے، ان کا جمہوری و دستوری حق ہے۔ اس سلسلے میں مولانا قمی نے  مرکزی وزیر مختار عباس نقوی  اور شاہنواز حسین سمیت کئی مثالیں بھی پیش کیں۔ مولانا قمّی نے واضح طور پر کہا کہ یوگی حکومت اس قانون کا سہارا لے کر مسلم طبقے کے نوجوانوں کو نشانہ بنانا چاہتی ہے ساتھ ہی دلتوں اور سماج کے دیگر کمزور طبقے کے نوجوانوں کو ہدف بنانے کی تیاری کررہی ہے۔ یہ ضرورت نہیں بلکہ سماجی تقسیم و تفریق کو یقینی بنا کر مذہبی بنیادوں پر سیاسی استحکام حاصل کرنے کی ایک سازش ہے۔


وہیں، آل انڈیا شیعہ پرسنل لا بورڈ کے ترجمان مولانا یعسوب عباس بھی کم و بیش انہی خیالات کی ترجمانی کرتے ہیں۔ مولانا یعسوب عباس کے مطابق قانون بنانا کوئی بری بات نہیں لیکن اگر اس عمل کے پیچھے کسی مخصوص مذہب کے لوگوں کو ہدف بنانے کا ناپاک منصوبہ ہے تو یہ افسوس ناک ہے۔ یعسوب عباس یہ بھی کہتے ہیں کہ خواتین کے تحفظ اور تین طلاق  کے نام پر بھی حکومت نے یہی تیزی دکھائی تھی۔ اتر پردیش میں بڑھتے جرائم اور خاص طور پر عصمت دری  اور قتل کی بڑھتی وارداتوں کو روکنے کے لئے کام کرنے کے بجائے یوگی جی غلط سمت میں کام کر رہے ہیں۔


یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ شیعہ وقف بورڈ کے سابق چئرمین وسیم رضوی اور وزیر برائے حج و اوقاف محسن رضا نے یوگی حکومت کی اس پیش رفت کی تعریف کرتے ہوئے لو جہاد پر بنائے جارہے قانون کو سماج کے لئے ضروری قرار دیا ہے۔معروف صحافی عامر صابری کہتے ہیں کہ وسیم رضوی اور محسن رضا ایک ہی تصویر کے دو رخ ہیں انہیں ہر جال میں یوگی جی کے ہر بیان  اور ہر قدم کو صحیح کہہ کر اپنی کرسیوں کی حفاظت کرنی ہے۔ عامر صابری کے مطابق اس قانون کے پس منظر میں بھی حکومت کی نیت صاف نہیں۔ جو سازش تین طلاق کے نام پر مسلم عورتوں کے ساتھ کی گئی تھی وہی اس مجوزہ قانون کا سہارا لے کر مسلم لڑکوں اور لڑکیوں کے ساتھ کی جا رہی ہے۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Nov 21, 2020 10:46 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading