உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دہلی حکومت بنام ایل جی معاملہ : فیصلہ اگر بڑی جیت ہے تو اب کیجریوال کام کرکے دکھائیں : شیلادکشت

    شیلا دکشت ۔ فائل فوٹو

    شیلا دکشت ۔ فائل فوٹو

    پندرہ سال تک دہلی کی وزیر اعلی رہ چکیں شیلا دکشت نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر کہا کہ میرا ماننا ہے کہ سپریم کورٹ نے صورت حال واضح کردی ہے ۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی : دہلی کی سابق وزیر اعلی اور کانگریس کی سینئر لیڈر شیلا دکشت نے دہلی حکومت اور لیفٹیننٹ گورنر کے اختیارات کے معاملے میں سپریم کورٹ کے آج کے فیصلہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے وزیر اعلی اروند کیجریوال کو مشورہ دیا کہ وہ مرکز کے ساتھ تال میل کرکے عوامی مفاد کے کاموں پر زیادہ توجہ دیں۔
      پندرہ سال تک دہلی کی وزیر اعلی رہ چکیں شیلا دکشت نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر کہا کہ میرا ماننا ہے کہ سپریم کورٹ نے صورت حال واضح کردی ہے ۔ آئین کی دفعہ 239(اے اے) کے مطابق دہلی مکمل ریاست نہیں ہے اور دیگر ریاستوں کے مقابلے میں یہاں کافی فرق ہے۔ دہلی مرکز کے زیر انتظام صوبہ ہے۔ اگر یہاں دہلی کے وزیر اعلی اور لیفٹیننٹ گورنر مل کر کام نہیں کریں گے ، تو اس طرح کی پریشانیاں آئیں گی۔ کانگریس نے دہلی میں پندرہ سال حکومت کی لیکن کبھی ٹکراو کی صورت نہیں پیدا ہوئی۔
      سابق وزیر اعلی نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ حکومت اور لیفٹیننٹ گورنر کے اختیارات پر کسی کی جیت یا کسی کی ہار نہیں ہے ۔سپریم کورٹ کے فیصلہ کو مسٹر کیجریوال کی طرف سے کامیابی بتائے جانے پر شیلا دکشت نے کہا کہ یہ عام آدمی پارٹی کی کامیابی اسی وقت سمجھی جاتی ، جب زمین اور قانون و انتظام کا بھی اختیار اسے مل جاتا ۔عدالت نے ایسا کوئی اختیار نہیں دیا ہے۔ لڑ کر کچھ حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ باہمی تعاون سے سب کچھ حاصل ہوسکتا ہے اور تال میل سے ہی کام کرنا پڑتا ہے۔
      First published: