உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    الیکشن کمیشن کو خود مختار ادارہ میں تبدیل کرنے کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ، سپریم کورٹ کا یہ ہےردعمل

    سپریم کورٹ (فائل فوٹو)

    سپریم کورٹ (فائل فوٹو)

    سپریم کورٹ نے بدھ کے روز سوال کیا کہ کیا یہ نظام کی مکمل خرابی نہیں ہوگی اگر چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) وزیر اعظم کے خلاف الزامات کی صورت میں ان کے خلاف کارروائی نہیں کرتے ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Mumbai | Jammu | Hyderabad | Delhi | Karnal
    • Share this:
      سپریم کورٹ نے مرکز سے نئے چیف الیکشن کمشنر (CEC) ارون گوئل کی تقرری کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اچیف الیکشن کمشنر کے تقرر کے طریقہ کار پر سوچنا چاہیے۔ عدالت عظمیٰ نے مرکزی حکومت کی کھنچائی کرتے ہوئے کہا کہ اس کی فائل 24 گھنٹے اندر پیش کی جائے۔ پانچ ججوں کی آئینی بنچ میں جسٹس کے ایم جوزف، اجے رستوگی، انیرودھا بوس، ہرشیکیش رائے اور سی ٹی روی کمار شامل ہیں۔

      یہ بنچ الیکشن کمشنروں کی تقرری کے نظام میں اصلاحات کی درخواستوں کی سماعت کر رہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے جمعرات کو چار دن کی سماعت کے بعد الیکشن کمیشن کو خود مختار ادارہ میں تبدیل کرنے کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔ جسٹس رستوگی نے الیکشن کمیشن کو خود مختار ادارہ بنانے کی درخواست کی سماعت کے دوران کہا کہ اسی دن کا عمل، اسی دن کی منظوری، اسی دن کی درخواست، اسی دن کی ملاقات نہایت اہم ہے۔ جسٹس رستوگی نے کہا کہ وزیر قانون نے کس بنیاد پر چار ناموں کا انتخاب کیا جن میں سے وزیر اعظم نے ایک نام لیا؟ کیا یہ چار افراد تمام مرد ہیں؟

      سپریم کورٹ کے ریمارکس اسی طرح کے بیانات کے سلسلے میں ہیں جو عدالت نے حال ہی میں دیے ہیں، جس میں سی ای سی کی تقرری کی گئی ’ہنگی پنکی‘ طریقے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

      مرکز کی طرف سے پیش ہوئے اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزیر قانون نے محکمہ عملہ کی ویب سائٹ سے چار ناموں کا انتخاب کیا۔ کیا کوئی ایسی عینک ہے جس سے ایگزیکٹو کہے کہ یہ شخص شائستہ ہے اور پھر کوئی کہے گا کہ وہ نہیں ہے۔ آپ کیسے فیصلہ کرتے ہیں؟

      یہ بھی پڑھیں: 

      جسٹس جوزف نے پھر کہا کہ پہلے بتائیں کہ آپ اس فہرست کا فیصلہ کیسے کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں انتخاب کے معیار پر جوابات کی ضرورت ہے۔ آپ پینل کو جواز بنا سکتے ہیں لیکن وزیر قانون و انصاف کے نوٹ کے حوالے سے ہم اس انتخاب کی بنیاد جاننا چاہتے ہیں۔ ہمیں اس کی بنیاد دکھائیں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: